http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 12 June, 2007, 03:19 GMT 08:19 PST

ہنیہ کا گھر ایک مرتبہ پھر نشانے پر

غزہ میں مسلح افراد نے ایک مرتبہ پھر فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کے گھر کو نشانہ بنایا ہے جبکہ غزہ میں حماس اور الفتح کی باہمی جھڑپوں میں مزید چودہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔

حماس کے ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے وزیرِاعظم کے شہر کے نواح میں شتی پناہ گزین کیمپ میں واقع گھر پر راکٹ سے پھینکے جانے والےگرینیڈ سے حملہ کیا گیا ہے۔ فوارزی براہوم کا کہنا تھا کہ اس حملے میں عمارت کو نقصان پہنچا تاہم اسماعیل ہنیہ اور ان کے اہلِ خانہ محفوظ رہے۔

یہ دو دن میں تیسرا موقع ہے کہ فلسطینی وزیراعظم کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس سے قبل پیر کو وزیراعظم کےگھر اور ایک ایسی عمارت پر فائرنگ کی گئی تھی جہاں وہ کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

حماس کے ترجمان نے الفتح کے کارکنوں پر ان حملوں کا الزام لگایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ الفتح کے حمایتی فلسطینی وزیراعظم کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ حملہ آور تمام حدیں عبور کر چکے ہیں اور حماس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان قاتلوں اور حملہ آوروں کو سزا دے گی اور اس حوالے سے کسی رحم کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا‘۔

گزشتہ چند ہفتوں میں متحارب فلسطینی دھڑوں کی لڑائی میں ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ فلسطینی وزیراعظم اور صدر دونوں نے ہی جنگ بندی کی اپیلیں کی ہیں۔

لڑائی کا عالم یہ ہے کہ بیت حنون میں ایک ہسپتال میں الفتح کے تین کارکنوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہسپتال کے اندر حماس اور فتح کے طرفداروں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ الفتح کا کہنا ہے کہ اس کے ایک سینئر کارکن کو ہسپتال میں بے دردی سے ہلاک کیا گیا۔ انہیں اکتالیس گولیاں لگیں۔ بعد میں ان کے بھائی کی لاش بھی ملی۔

غزہ شہر میں حماس سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے تین افراد کو گولی مار دی گئی جس سے ان کی موت ہو گئی۔ شمالی غزہ میں الفتح سے منسلک الاقصیٰ بریگیڈ کے ایک سینئر رکن کو ہلاک کر دیا گیا۔

رائٹرز خبر رساں ایجنسی کے مطابق ’ہرکوئی ہر کسی پر گولی چلا رہا ہے۔‘ یاد رہے کہ پیر کو حماس اور الفتح تنظیم کے درمیان قریباً ایک ماہ کے عرصے میں ساتویں مرتبہ فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو چند گھنٹے بعد ہی ٹوٹ گیا تھا۔