Monday, 11 June, 2007, 11:39 GMT 16:39 PST
عراق کے دارالحکومت بغداد کے قریب ایک خودکش دھماکے کے بعد پل گرنے سے تین امریکی فوج ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔
بغداد کو عراق کے جنوبی حصوں سے ملانے والی اہم شاہراہ پر واقع پل پر اتوار کو ہونے والے خودکش بم دھماکے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اس ماہ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی بغداد کے قریب اہم شاہراہ پر تعمیر پل پر بنی ایک چیک پوسٹ پر تھے کہ اسی پل کے نیچے خودکش بم دھماکہ ہوا۔ واضح رہے کہ عراق میں مزاحمت کاروں کی جانب سے پلوں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔
امریکی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے نے محمودیہ کے مشرق میں چیک پوسٹ ٹوئنٹی پل کے دو میں سے ایک حصے کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ خودکش حملہ آور نےاپنی گاڑی کو پل کو سہارا فراہم کرنے والے ستونوں میں سے ایک سے ٹکرا دیا۔
دھماکے کے فورا بعد امریکی فوج کی چیک پوسٹ ملبے کی صورت اختیار کر گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ چیک پوسٹ صرف فوجی گاڑیوں کے گزرنے کے لیے کھولی گئی تھی۔
![]() | |
| خودکش دھماکے کے بعد امریکی فوجی ملبے میں پھنس کے رہ گئے |
اسی کمپنی کے ایک اور رکن ڈونلڈ کیمبل نے بتایا کہ انہوں نے ملبے تلے دبی فوج کی گاڑی میں سے ایک زخمی فوجی کو باہر نکالا۔
دریں اثناء امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں واقع صلاح الدین صوبے میں 130 سنی قبائلی رہنما القاعدہ کے خلاف جنگ میں موثر کردار ادا کرنے کو تیار ہو گئے ہیں۔
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ تکریت میں ان سے ملاقات کرنے والے سنی رہنماؤں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کے خلاف عراق حکومت اور سکیورٹی فورسز کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں گے۔