Monday, 11 June, 2007, 04:04 GMT 09:04 PST
فرانس میں پہلے مرحلے کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے تخمینوں کے مطابق صدر نکولس سرکوزی کو بھاری اکثریت سے فتح کی طرف گامزن ہیں۔
اگرچہ بہت سی نشستوں پر اگلے ہفتے دوسرے راونڈ کے انتخابات کے بعد ہی فیصلہ ہو سکے گا، لیکن ووٹوں پر رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ صدر سرکوزی کی جماعت کو پانچ سو ستتر میں سے تین سو تراسی نشستیں مل سکتی ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق صدر سرکوزی کو اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے اپنی اقتصادی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔
البتہ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم یعنی اکسٹھ فیصد رہی ہے۔ صرف ایک ماہ پہلے صدراتی انتخابات میں یہی شرح چوراسی فیصد تھی۔
اڑتالیس سالہ ووٹر مائیکل پیریز نے جن کا تعلق فرانس سے ہے رائٹرز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا بہت سے لوگ ان پارلیمانی انتخابات میں دلچسپی لیتے نظر نہیں آ رہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ نکولس سرکوزی نے جیت تو جانا ہی ہے۔
پولنگ کے جائزے لگانے والوں نے کہا ہے کہ صدر سرکوزی کی جماعت کی نشستوں کی تعداد تین سو تراسی اور پانچ سو ایک کے درمیان ہوگی۔
سرکوزی کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے: ’آج آپ نے صدر کو صدارتی اکثریت کو ایک خوبصورت برتری دی ہے۔ لیکن اصل فیصلہ اگلے اتوار کو ہوگا۔ اسی لیے پورے فرانس کو ووٹ ڈالنے جانا ہوگا۔‘
سوشلسٹ پارٹی نے جس کے امیدوار کو شکست دے کر نکولس سرکوزی صدر بنے ہیں، ایک مرتبہ پھر پارلیمانی انتخابات میں بڑی مایوس کارکردگی دکھائی ہے۔