Sunday, 10 June, 2007, 09:41 GMT 14:41 PST
افغانستان کے علاقے غزنی میں صدر حامد کرزئی کے جلسے پر طالبان نے راکٹ فائر کیے ہیں۔ کرزئی کو حملے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ جلسے کے حاضرین گھبرا گئے جبکہ صدر کرزئی انہیں پرسکون رہنے کے لیے کہتے رہے اور اپنی تقریر مکمل کی۔
اس کے علاوہ حکام کے مطابق ملک کے شمال مغرب میں شدید جھڑپوں میں کم سے کم تیس طالبان اور دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب طالبان نے ترکمانستان کی سرحد کے قریب بغدیس میں پولیس کی ایک چوکی پر حملہ کیا جبکہ طالبان نے اس بیان کی تردید کی ہے۔
اس کے علاوہ زابل میں اطلاعات کے مطابق ستائیس مزاحمت کار ہلاک ہو گئے اور ملک کے جنوب حصے قندھار میں ایک جنرل کو گولی مار دی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ جنرل داؤد صالحی شہر کے مرکز میں بال کٹوا رہے تھے جب انہیں ہلاک کیا گیا۔
بغدیس میں پولیس حکام نے بتایا کہ سنیچر کی شام کو طالبان نے ایک چوکی پر حملے کیا جس کے بعد چھ گھنٹے کی لڑائی میں تیس حملہ آور اور دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔
طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے پولیس کے موقف کی تردید کی اور کہا کہ شہر پر ان کا قبضہ ہے۔ انہوں نے سرکاری اہلکاروں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا۔
گزشتہ دو روز کے دوران ہلمند میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہوا ہے۔