Sunday, 10 June, 2007, 19:49 GMT 00:49 PST
اتوار کو طالبان نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی پر اس وقت راکٹ حملہ کر دیا جب وہ غزنی میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔
سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ حامد کرزئی کی جلسہ گاہ پر کئی راکٹ داغے گئے لیکن انہیں اس حملے میں کوئی گزند نہیں پہنچا۔
راکٹ داغے جانے کے بعد حاظرینِ جلسہ میں سے کچھ افراد میں افراتفری پھیل گئی تاہم صدر کرزئی نے لوگوں سے کہا کہ وہ اطمینان سے رکے رہیں اور اس کے بعد انہوں نے اپنا خطاب مکمل کیا۔
حملے کے وقت حامد کرزئی اندار ضلع کے بڑوں اور رہائشیوں سے خطاب میں مصروف تھے اور جب راکٹ داغے گئے وہ سڑکوں اور ہسپتالوں کی تعمیر کی بات کر رہے تھے۔
راکٹ حامد کرزئی سے چند سو میٹر دور گرے۔
مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ حامد کرزئی نے مختصراً اپنا خطاب روکا اور پھر لوگوں سے کہا کہ وہ خاطر جمع رکھیں اور اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔
افغان صدر پر حالیہ برسوں میں دو قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ افغانستان کے جنوب مغرب میں شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں تیس طالبان اور دو پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔
جس وقت صدر کرزئی پر حملہ ہوا وہ اندار کے ضلع میں ایک سکول کی عمارت میں خطاب کر رہے تھے۔
بغدیس صوبے میں پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہفتے کی دوپہر طالبان مزاحمت کاروں کی ایک بڑی تعداد نے ایک دور افتادہ ضلع میں حملہ شروع کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ چھ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں تیس طالبان شدت پسند ہلاک ہوئے۔ پولیس کے دو اہلکار بھی اس حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن حکومت نے ضلع پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔
طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس لڑائی کے بارے میں حکومتی موقف غلط ہے اور یہ کہ صوبے کا کنٹرول ابھی تک باغیوں کے پاس ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ طالبان نے پولیس کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔
دریں اثناء زابل کے صوبے میں شنکے کے مقام پر نیٹو افواج کے فضائی حملے میں ستائیس مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔
قندھار میں ایک فوجی جنرل اس وقت ہلاک ہوگیا جب وہ حجامت بنوا رہا تھا اور افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں ایک برطانوی فوجی بھی ہلاک ہوگیا ہے۔