Wednesday, 06 June, 2007, 13:04 GMT 18:04 PST
افغانستان میں ایک نجی ریڈیو سٹیشن کی خاتون سربراہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ذکیہ ذکی صوبہ پروان کے جبل السراج علاقے میں اپنا ریڈیو اسٹیشن چلاتی تھیں۔ وہ گزشتہ رات اپنے آٹھ ماہ کے بیٹے کے ساتھ سو رہی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ صوبہ پروان کے گورنر عبدالجبار تقوی کے مطابق ان کو آٹھ گولیاں لگیں۔
حکام کے مطابق ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ حملہ کس نے اور کیوں کیا۔
صرف چند روز قبل ہی ایک خاتون نیوز ریڈر کو بھی قتل کیا تھا۔ پولیس نے اس واقعہ کی وجہ ایک گھریلو تنازعہ بتائی تھی۔
بائیس سالہ شکیبہ سنگا اماج کو گزشتہ ہفتے ہلاک کیا گیا تھا۔ وہ ایک نجی ٹی وی چینل کے لیے کام کرتی تھیں۔
![]() | |
| ذرائع ابلاغ سے وابستہ خواتین کو پہلے بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ |
عبدالجبارتقوی نے جبل السراج میں محترمہ ذکیہ ذکی کے گھر سے لوٹنے کے بعد بتایا کے حملہ آوروں کی تعداد تین تھی اور حملے کے وقت مقتولہ کا تین سالہ بیٹا بھی ان کے ساتھ تھا۔
وزارت داخلہ نے اس حملے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آوروں کو پکڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ذکیہ ذکی کی عمر پینتیس برس تھی اور وہ ایک سکول میں پڑھاتی بھی تھیں۔ امن ریڈیو کے نام سے یہ اسٹیشن سن 2001 میں امریکی فنڈز کی مدد سے قائم کیا گیا تھا۔
اپنی نشریات میں انہوں نے کئی مرتبہ سابق مجاہدین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
کئی سابق مجاہدین کو جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔
افغانستان میں صحافیوں کی تنظیم کے مطابق ذکیہ ذکی کو ماضی بھی دھمکیاں ملی تھیں لیکن ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔