Tuesday, 05 June, 2007, 02:55 GMT 07:55 PST
فلسطینی حکومت کا کہنا ہے کہ تین ہفتے سے جاری تشدد کو روکنے کے لیے اسرائیل کے سامنے پیش کی جانے والے فائر بندی کی تجویز کی شرائط پر اتفاقِ رائے ہوگیا ہے۔
حکومت کے مطابق حماس کی زیرِ قیادت حکومتی کابینہ میں شامل تمام دھڑوں نے جنگ بندی کے اس معاہدے کی منظوری دی ہے جس میں غزہ کی پٹی کی جگہ اب تمام فلسطینی علاقے شامل ہوں گے۔
اس منصوبے میں اسرائیلی فوج اور مزاحمت کاروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سرحد پار کارروائیاں بند کر دیں۔ اسرائیل ماضی میں غربِ اردن میں جنگ بندی کے معاہدوں کو مسترد کرتا رہا ہے اور اسرائیلی فوج اس علاقے میں مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہتی ہے۔
اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائیاں گزشتہ ماہ غزہ سے کیے جانے والے راکٹ حملوں میں دو اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھیں اس وقت سے جاری آپریشن میں اب تک پچاس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس بھی فلسطینی دھڑوں پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل سے ابتدائی طور پر غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ کر لیں تاکہ تشدد کی حالیہ لہر ختم ہو سکے۔
رام اللہ میں بی بی سی کے نمائندے علیم مقبول کے مطابق حماس اس برس کے آغاز میں جنگ بندی کا ایک ایسا ہی معاہدہ یہ کہہ کر توڑ چکی ہے کہ عربِ اردن میں فلسطینیوں کا قتل جاری ہے۔ دیگر دھڑے بھی اسی وجہ کو بنیاد بنا کر جنگ بندی سے انکاری ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس اسراییلی وزیراعظم ایہود اورلمت سے رواں ہفتے میں ملاقات کرنے والے ہیں لیکن بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کو غربِ اردن میں جنگ بندی پر راضی نہ کر سکے تو غزہ سے راکٹ حملوں کا سلسلہ تھمنا محال ہے۔