Tuesday, 05 June, 2007, 11:39 GMT 16:39 PST
افغان حکومت طالبان کو مغوی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں طالبان کمانڈر ملا داد اللہ کی لاش دینے پر رضامند ہو گئی ہے۔
حکومت نے بتایا ہے کہ صدر حامد کرزئی نے حکم دیا ہے کہ قندہار سے اغوا ہونے والے محکمہ صحت کے پانچ اہلکاروں کے بدلے میں ملا داداللہ کی لاش دے دی جائے۔
سرکاری اہلکاروں کے مطابق ملا داد اللہ کی لاش ان کے خاندان کی طرف سے نامزد کیے جانے والے شخص کے حوالے کی جائے گی۔
گزشتہ ماہ مارے جانے والے طالبان کمانڈر پر الزام تھا کہ وہ افغانستان میں کئی بم دھماکوں، اغوا کی وارداتوں اور مغویوں کے سر قلم کرنے کے واقعات میں ملوث تھے۔
اہلکاروں نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ صحت کے مذکورہ پانچ اہلکاروں کو مارچ میں قندہار سے اغوا کیا گیا تھا۔
اغوا کاروں کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ حکومت ان کے کچھ قیدیوں کو رہا کرے تاہم بعد میں وہ مغویوں کو ملا داد اللہ کی لاش کے بدلے میں رہا کرنے پر رضامند ہو گئے تھے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے وزارت صحت کے ایک مشیر عبداللہ فہیم کا کہنا تھا ’ ملا داداللہ کی لاش واپس کرنے کے بارے میں گزشتہ روز اتفاق ہو گیا تھا۔ اپنے عزیز کی لاش لینا مرنے والے کے عزیزوں کا حق ہے۔‘
روسی فوجوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی ایک ٹانگ گنوا دینے والے ملا داد اللہ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ کئی خود کش حملوں اور سرقلم کرنے کی وارداتوں کے سرغنہ تھے۔
انہیں گزشتہ ماہ صوبہ ہلمند میں امریکی فوجوں کی سربراہی میں کی جانے والی ایک کارروائی میں ہلاک کیا گیا تھا۔
وزارتِ صحت کے مشیر کا مزید کہنا تھا ’ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے کارکنوں کو بحفاظت رہا کریں گے۔ اب ان کے گھر والوں کو لاش واپس کرنے کے ذمہ داری صوبہ قندہار کے مقامی حکام پر ہے۔‘
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ملا داد اللہ کی لاش ان کے ورثاء کے حوالے کب کی جائے گی۔