http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 05 June, 2007, 11:38 GMT 16:38 PST

بغداد ابھی بھی کنٹرول سے باہر

امریکی فوج کے تجزیے کے مطابق بغداد کا ایک تہائی سے کم علاقہ امریکہ اور عراقی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ امریکی فوج بغداد میں فروری میں شروع کی گئی کارروائی کے بعد امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لے رہی تھی۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ کچھ علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات میں کمی ہوئی ہے لیکن مغربی بغداد میں حالات سنگین ہیں۔ فروری کے بعد سے ہزاروں عراقی تشدد کے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

امن و امان کے لیے شروع کی گئی کارروائی کے تحت بغداد میں بیس ہزار سے زیادہ امریکی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

اسی دوران ایک تازہ واقعہ میں مشرقی بغداد میں پولیس نے ایک مشتبہ خاتون خودکش بمبار کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ .

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس عورت نے روایتی لباس پہنا ہوا تھا اور رکنے کی درخواست کے باوجود پولیس کے ایک بھرتی مرکز کی طرف بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس عورت پر فائرنگ کے بعد دھماکہ ہوا جس میں پولیس کے تین ریکروٹ معمولی زخمی ہوئے۔

امریکی پولیس کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل کرسٹوفر گریور نے کہا کہ مسئلہ حل ہونے سے پہلے مشکل صورت اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہ انہیں معلوم ہے کہ موسم گرما میں لڑائی شدید ہو گی۔

ترجمان نے کہا کہ بغداد میں امن و امان کے منصوبے کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ مزید یونٹ تعینات کرنے سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی فوج کے تجزیے کے مطابقامریکی اور عراقی افواج کا بغداد کے چار سو ستاون اضلاع میں سے ایک سو چھیالیس پر کنٹرول ہے۔

تجزیے میں عراقی پولیس اور فوج پر وعدے کے مطابق دستے فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ دستے ناکوں کی نگرانی اور گشت کرنے جیسے بنیادی حفاظتی ذمہ داریوں کے لیے درکار تھے۔

مئی میں ایک سو ستائیس امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ مارچ دو ہزار تین کے بعد ایک مہینے میں امریکی فوج کا سب سے زیادہ نقصان ہے۔

امریکہ کے صدر جارج بُش شدید مخالفت کے بعد کانگریس سے عراق میں کارروائی کے لیے مزید فنڈ کے لیے منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور اب ان پر دباؤ ہے کہ وہ امن و امان کے قیام کے ضمن میں پیش رفت کا دکھائیں یا امریکی فوج عراق سے واپس بلائی جائے۔