Tuesday, 05 June, 2007, 02:28 GMT 07:28 PST
گوانتانامو بے میں فوجی جج نے کہا ہے کہ کیمپ میں قید اسامہ بن لادن کے مبینہ ڈرائیور سلیم احمد حمدان اور ایک کینیڈین عمر خدر پر عائد الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ الزامات ثابت نہ ہونے کے باوجود ان دونوں افراد کو رہا نہیں کیا جائےگا۔ تاہم ان فیصلوں سےگوانتانامو میں قید مشتبہ دہشت گردوں پر مقدمہ چلانے کی امریکی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
ان دونوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والے جج نے کہا کہ ان پر موجودہ قوانین کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا کیونکہ انہیں سابقہ سماعتوں میں’غیر قانونی‘ دشمن جنگجو قرار نہیں دیا گیا۔
عمر خدر پر عدالت میں قتل، اقدامِ قتل، سازش اور دہشتگردی کی مدد کے الزامات لگائے گئے تھے جبکہ اسامہ بن لادن کے ڈرائیور سلیم حمدان پر سازش اور دہشتگردی کی مدد کے الزامات تھے۔
کینیڈین نژاد عمر خدر کو افغانستان میں ایک امریکی فوجی کو ہلاک کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا اورگرفتاری کے وقت ان کی عمر صرف پندرہ برس تھی۔
عمر خدر اور سلیم حمدان کو سابقہ ٹرائبیونل نظام کے تحت دشمن جنگجو قرار دیا گیا تھا لیکن صدر بش کی جانب سے منظور کردہ نئے قانون کے تحت صرف ان قیدیوں پر گوانتانامو بے میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جنہیں ’غیر قانونی‘ دشمن جنگجو قرار دیا گیا ہو۔
سلیم حمدان کے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نیوی کیپٹن کیتھ آلریڈ کا کہنا تھا کہ ’دشمن جنگجو‘ کی تعریف کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس میں وہ لوگ بھی شامل کیے جا سکتے ہیں جنہوں نے باقاعدہ جنگ میں حصہ نہیں لیا اور صرف طالبان یا القاعدہ کی حمایت کی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2006 کے قانون کے تحت فوجی ٹرائبیونل کے دائرہ اختیار میں ان افراد کے خلاف مقدمات سماعت ہے ’جو جنگ میں براہِ راست شریک تھے‘۔
سلیم حمدان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا مؤکل ایک منصفانہ مقدمے کے لیے پر امید ہے اور یہ قانون اور جنگ کے قانون کی فتح ہے۔
یاد رہے کہ سلیم حمدان نے امریکی سپریم کورٹ میں گوانتانامو بے کے ٹرائبیونل نظام کو چیلنج کیا تھا اور اس مقدمہ کے نتیجے میں ہی امریکی حکومت نے وہ نظام ختم کر کے نیا نظام پیش کیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد وکلائے صفائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب گوانتانامو بے میں موجود تین سو اسّی قیدیوں پر اس وقت تک مقدمہ نہیں چلایا جا سکے گا جب تک انہیں باقاعدہ طور پر ’غیر قانونی‘ دشمن جنگجو قرار نہ دے دیا جائے۔
جج نے بھی اپنے فیصلے میں یہ آپشن کھلا رکھا ہے کہ قیدیوں پر عائد الزامات کے دوبارہ سرکاری جائزے کے بعد انہیں’غیر قانونی‘ دشمن جنگجو قرار دیا جا سکتا ہے۔