Sunday, 03 June, 2007, 22:58 GMT 03:58 PST
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ مشرقی یورپ میں اپنا میزائل دفاعی نظام بنانے سے باز نہ آیا تو روس ایک مرتبہ پھر اپنے میزائلوں کا رخ یورپ کی جانب موڑ سکتا ہے۔
روسی صدر نے جرمنی میں جی ایٹ سربراہ اجلاس کے آغاز سے قبل ایک اطالوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس امریکی منصوبے سے اسلحے کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
ولادیمیر پوتن کا کہنا تھا کہ’اگر یورپ میں امریکہ کی جوہری موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں یورپ میں نئے اہداف منتخب کرنے ہوں گے۔ یہ ہماری فوج پر ہے کہ وہ کسے ہدف بناتی ہے اور بیلسٹک اور کروز میزائلوں میں سے کس کا انتخاب کرتی ہے‘۔
روسی رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ نے سنہ 2002 میں انٹی بیلسٹک میزائل معاہدے سے یکطرفہ طور پر ہاتھ کھینچ کر’سٹریٹجک توازن‘ خراب کر دیا تھا۔گزشتہ ہفتے بھی روس نے کہا تھا کہ اس نے دنیا میں’سٹریٹجک توازن‘ برقرار رکھنے کے لیے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔
امریکہ اپنے دفاعی منصوبے کے تحت پولینڈ میں ’انٹرسپٹر راکٹ‘ اور جمہوریہ چیک میں ایک ریڈار اڈہ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ تنصیبات شمالی کوریا اور ایران جیسے ممالک سے لاحق ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے ضروری ہیں۔