Friday, 01 June, 2007, 08:25 GMT 13:25 PST
امریکی حکام نے کہا ہے کہ گوانتانامو کے قید خانے میں بدھ کو جس قیدی نے بظاہر خود کشی کر لی تھی اس کا تعلق سعودی عرب سے تھا اور وہ طالبان کی جانب سے لڑ رہا تھا۔
پہرے داروں نے جب عبدالرحمان الامیری کو ان کی کوٹھری میں دیکھا تو وہ سانس نہیں لے رہے تھے، جس پر پہرے داروں نے ان کی سانس بحال کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔
سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے مرحوم کی لاش واپس لانے کے لیے انتظامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔
جزیرہ گوانتانامو پر، جہاں پر امریکہ تین سو اسی قیدیوں کو فرد جرم اور کسی مقدمے کی سماعت کے بغیر رکھا ہوا ہے، عبدالرحمان کی موت اس قسم کا چوتھا واقعہ ہے۔ گزشتہ سال جون میں دو سعودی اور ایک یمنی قیدی نے بھی خود کو پھانسی دے لی تھی۔
ان تین افراد کی خود کشی پر ایک سینیئر امریکی افسر نے شدید عضے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اقدام ایک گندی جنگ لڑنے کے مترادف تھا اور ان کی خود کشی مشتبہ دہشتگردوں کے لیے لوگوں کی ہمدردی لینے کا اچھا ذریعہ تھی۔
کمانڈر رِک ہاپٹ نے کہا: ’ ہم یہ جاننے کی پوری کوشش کریں گے کہ اصل میں ہوا کیا تھا اور ہماری کوشش ہو گی کہ آئندہ اس قسم کے واقعات نہ ہوں۔‘
کمانڈر نے یہ بھی بتایا ہے کہ عبدالرحمان کو کیمپ نمبر پانچ میں رکھا گیا تھا جو کہ حال ہی میں بنایا گیا ہے اور وہاں خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔
اس کیمپ کے بارے میں گزشتہ ماہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ وہاں ’ کے حا لات زیادہ برے ہیں کیونکہ وہاں قیدیوں کو مستقل طور پر شدید تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور انہیں کچھ سننے یا دیکھنے سے محروم رکھا جاتا ہے۔‘
ایمنسٹی کے مطابق اس قسم کے غیر انسانی حالات قیدیوں کے اعصاب پر شدید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
کمانڈر نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ عبدالرحمان الامیری اس سے پہلے بھی خود کشی کی کوشش کر چکے تھے تاہم ان کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماضی میں بھوک ہڑتال کرتے رہے تھے۔ کمانڈر کے مطابق عبدالرحمان کو ناک میں ٹیوب ڈال کر خوراک دی جاتی رہی ہے۔
![]() | |
| عبدا الرحمان کو سنہ دو ہزار دو میں پاکستان سے پکڑ کر جزیرہ گوانتانامو پہنچایا گیا تھا |
ماضی میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ عبدالرحمان نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ وہ سنہ دو ہزار دو میں افغانستان گئے تھے اور طالبان کی جانب سے لڑائی میں حصہ لے چکے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ایسا امریکہ پر حملہ کرنے کی خاطر نہیں کیا تھا بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کیا تھا۔
ریکارڈ کے مطابق عبدالرحمان نے کہا تھا کہ اگر ان کو امریکیوں کو مارنے کی خواہش ہوتی تو وہ انہیں اس وقت بھی مار سکتے تھے جب وہ سعودی عرب میں ان کے شانہ بشانہ کام کر رہے تھے۔
الامیری نے تفتیش کاروں سے مزید کہا تھا کہ جہاد میں شامل ہونے سے پہلے انہوں نے ایک ’جہادی سکول‘ سے تربیت بھی حاصل کی تھی اور انہیں فاصلے سے اسامہ بن لادن کو دیکھنے کا موقع بھی ملا تھا۔
عبدا الرحمان کو سنہ دو ہزار دو میں پاکستان سے پکڑ کر جزیرہ گوانتانامو پہنچایا گیا تھا۔