ملائشیا کی ہائی کورٹ نے عیسائی تسلیم کیے جانے کے لیے ایک سابق مسلمان خاتون کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
تین ججوں پر مشتمل ہائی کورٹ کے بینچ نے فیصلہ دیا ہے کہ صرف ملک کی شریعت کورٹ ہی اس معاملے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
ملائشیا کا آئین عبادات کی آزادی دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ تمام مالائی نسلی طور پر مسلمان ہیں اور شریعت کے تحت مسلمانوں کو مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
مس جوے کا کہنا ہے کہ ان پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ وہ اب مسلمان نہیں ہیں۔
ملائشیا کے چیف جسٹس احمد فیروز شیخ عبدالحلیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ دیتے ہوئے اب تک کی ان نظائر کو سامنے رکھا ہے جن کے مطابق کسی مسلمان کے مذہب تبدیل کرنے کے معاملے کی سماعت شریعت کورٹ کا دائرۂ عمل ہے۔
جب اس معاملے کا فیصلہ سنایا جا رہا تھا تو عدالت کے باہر جمع ہونے والے دو سو احتجاجی اللہُ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔
مس جوے کا معاملہ ملائشیا میں مذہبی آزادی کی حدود کی آزمائش بن گیا ہے۔
مس جوے نے 1990 سے چرچ جانا شروع کیا اور 1998 میں انہوں نے باقاعدہ عیسائیت قبول کر لی۔
لاتعلقی، بے روزگاری اور روپوشی |
منگل کو سنایا جانے والا فیصلہ ملائیشیا کی عام عدالتوں میں اس معاملے میں مس جوے کی اپیل کا آخری مرحلہ تھا۔
مذہب تبدیل کرنے کے بعد مس جوے کے خاندان نے ان سے تعلق منقطع کر لیا ہے اور انہیں ملازت چھوڑنے پر بھی مجبور کر دیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ سال سے روپوش ہیں اور ان کے معاملے کی پیروی کرنے والے وکیل کو موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔