Monday, 28 May, 2007, 13:01 GMT 18:01 PST
افغانستان کے صوبے جوزجان کے دارالحکومت شبرگان میں عینی شاہدین کے مطابق افغان پولیس نے پانچ مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
مظاہرین متنازع ازبک رہنما جنرل رشید دوستم کے حمایتی بتائے جاتے ہیں، جو صوبے کے گورنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔صورتِ حال میں کشیدگی کے بعد علاقے میں نیٹو کے فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
ادھر ملک کے دیگر حصوں میں تشدد کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ تشدد طالبان کی وجہ سے ہوا۔
اطلاعات کے مطابق جنرل دوستم کے لگ بھگ ایک ہزار طرف دار شبرگان میں سرکاری دفاتر کے باہر مظاہرہ کر رہے تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق انہوں نے پتھراؤ بھی کیا۔
جنرل دوستم اور صوبائی گورنر ہمدرد دونوں ماضی میں قریبی حلیف تھے لیکن کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حال ہی میں دونوں میں سیاسی اختلافات سامنے آئے ہیں اور اب وہ حریف ہیں۔
جنرل دوستم افغان سیاست میں سب سے متنازع شخصیت ہیں۔ انیس سو اسی میں انہوں نے باغی مجاہدین کے مقابلے میں سویت یونین کی حملہ آور فوج کی حمایت کی تھی۔ بعد میں انہوں نے افغانستان کی خانہ جنگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
دو ہزار ایک میں جب ان کی ملیشیا امریکی فوج کی مدد کر رہی تھی، تو اس پر یہ الزام لگا کہ اس نے سینکڑوں طالبان قیدیوں کو جہاز رانی میں استعمال ہونے والے بڑے ڈبوں میں بند کر دیا جس کے باعث طالبان قیدی دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔
دریں اثناء افغان حکومت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ طالبان شدت پسندوں نے جنوب مشرق میں واقع پکتیہ کے صوبے میں پولیس کے قافلے پر حملہ کیا جس میں چھ افسر مارے گئے۔ یہ حملہ بموں سے کیا گیا۔
یہ خبر بھی ہے کہ طالبان نے قندوز اور قندھار میں دو خود کش حملے کیے ہیں۔
سنہ دو ہزار چھ میں طالبان مزاحمت کے دوران چار ہزار کے قریب افراد مارے جا چکے ہیں۔اس ماہ کے اوائل میں طالبان کے اعلیٰ ترین رہنما ملا داداللہ کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور نیٹو فوج کے کمانڈر نے کہا تھا کہ طالبان جوابی کارروائیاں کر سکتے ہیں جس کے لیے نیٹو افواج تیار ہیں۔