Saturday, 26 May, 2007, 11:17 GMT 16:17 PST
عراق کے ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لیے سنی رہنماؤں کے ساتھ ایک امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔
مقتدیٰ الصدر نے، جو گزشتہ جمعہ کی نماز کے دوران کئی مہینوں کے بعد منظر عام پر آئے، کہا کہ وہ عراق پر امریکی قبضے کے خلاف سنی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے ایک سینیئر مشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتدیٰ الصدر نے اعتدال پسند سنی گروہوں سے ملاقات کی ہے جس کا مقصد ایک ’متحدہ جمہوری عراق‘ کے لیے کام کرنا ہے۔
عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی نے مقتدیٰ الصدر کو ’نمبر ون۔۔۔ سب سے بااثر رہنما‘ قرار دیا اور ان کے بیان کو ’حوصلہ افزا‘ بتایا۔
الصدر نے کہا: ’میں عراق میں اپنے سنی برادران سے کہتا ہوں کہ ہم بھائی ہیں اور قابض طاقت نے عراقی عوام کو کمزور کرنے کے لیے ہمیں تقسیم کردیا۔‘
ان کے ایک سینیئر مشیر عبد المہدی المتیری نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتدیٰ الصدر کی تنظیم اعتدال پسند سنیوں سے سمجھوتے کی کوشش کررہی ہے۔ مشیر کے مطابق ان کے ایک نمائندے نے ’انبار اویکنِنگ کونسل‘ سے ’فرقہ وارانہ بغاوت‘ کے خاتمے کے لیے ملاقات کی ہے۔
مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے ہمیشہ امن اور تعاون کی بات نہیں کی ہے۔ ان کی تنظیم مہدی آرمی بغداد میں حالیہ امریکی فوجی آپریشن کے نشانے پر ہے۔ لیکن جب بغداد میں امریکی فوجیوں نے کارروائی شروع کی تب الصدر نے اپنے جنگجوؤں کو میدان سے ہٹالیا تھا۔
حال ہی میں جب مقتدیٰ الصدر عراق سے چلے گئے تھے، تو ان کے حامی چھ وزراء عراقی کابینہ سے الگ ہوگئے۔ یہ وزراء الصدر کے اس مطالبے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے کہ امریکہ عراق سے اپنی افواج کے انخلاء کے لیے ٹائم ٹیبل کا تعین کرے۔