Saturday, 26 May, 2007, 13:13 GMT 18:13 PST
مزید امریکی جہاز فوجی امداد لیکر لبنان پہنچ رہے ہیں جہاں کئی دنوں سے حکومتی افواج اور شدت پسندوں کے درمیان مسلح تعطل بنا ہوا ہے۔
لبنان کے نہر البارد فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں شدت پسند کئی دنوں سے پناہ لیے ہوئے ہیں اور حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے وارننگ دی ہے کہ لبنانی فوج اس کیمپ میں داخل نہ ہو۔
امریکی فوج کے جہازوں سے بیروت کے ہوائی اڈے پر اترنے والی امداد میں اٹومیٹِک رائفلز، ہیلی کاپٹروں کے پرزے اور تاریکی میں دیکھنے والی دوربین وغیرہ شامل ہیں۔
لبنان کے وزیر دفاع کے مطابق نہر البارد میں موجود شدت پسندوں کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کے لیے مذاکرات ہورہے ہیں لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایسا ہونا بالکل ہی ناممکن لگتا ہے اور ہر کوئی ایک نئی لڑائی کی توقع کررہا ہے۔
شیعہ مسلم تحریک حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ اگر لبنان کی فوج پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوتی ہے تو لبنان تشدد کے نئے بھنور میں پھنس جائے گا۔
نہر البارد کیمپ میں ہزاروں فلسطینی پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں اور ارد گر فائرنگ کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ لبنان کی فوج نے فتح الاسلام کے شدت پسندوں پر فلسطینی پناہ گزین کو انسانی ڈھال بنانے کا الزام لگایا ہے۔
نہرالبارد کیمپ کے اطراف میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سننے کو ملتی ہیں لیکن اگر نئی لڑائی شروع ہوتی ہے تو اس میں شہریوں کے پھنسنے کا خدشہ ہے۔
لبنان کی فوج اور فتح الاسلام کے درمیان ہونے والی لڑائی میں اب تک پچاس فوجی اور شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ سویلین ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
فتح الاسلام ایک فلسطینی شدت پسند گروپ ہے۔ لبنانی حکام کا خیال ہے کہ اس کا تعلق شام اور القاعدہ سے ہے۔ حالیہ لڑائی تب شروع ہوئی جب لبنان کی سکیورٹی فورسز نے بینک ڈکیتی کے ایک واقعے کے بعد تریپولی میں ایک عمارت پر کارروائی کی۔