Friday, 25 May, 2007, 10:12 GMT 15:12 PST
عراق میں سخت گیر موقف رکھنے والے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کئی ماہ بعد دوبارہ عوام میں دیکھے گئے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مقتدیٰ الصدر امریکی فوجیوں کی بغداد میں کارروائی سے پہلے جنوری میں ایران چلے گئے تھے تاہم اس بات کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
مقتدیٰ الصدر کے منظر عام سے غائب ہونے کے دوران ان کے حامی چھ وزراء بھی عراقی کابینہ سے الگ ہو گئے تھے تاکہ وزیر اعظم نوری المالکی پر امریکی فوج کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ سن دو ہزار چار میں مہدی آرمی نے دو بار امریکیوں کے خلاف بغاوت کی تھی۔ مقتدیٰ الصدر اپنی طرز سیاست کی وجہ سے عراقی شیعاؤں میں مقبول ہو چکے ہیں۔
جمعہ کو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نےعراق جنگ کے لیے100 ارب ڈالر مختص کرنےکی منظوری دے دی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے مذکورہ بل کو عراق سے امریکی فوج کی واپسی کے اوقات کار کے تعین سے مشروط کرنے کی کوشش کی تھی لیکن صدر بش نے اس بل کو ویٹو کردیا تھا۔
جمعرات کو بل کی منظوری کے چند گھنٹوں بعد عراق میں امریکی حکام نے بتایا کہ ان کے پانچ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ اپنے حریف شیعہ رہنما عبدالعزیز الحکیم کی غیر موجودگی میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانا چاہتے ہوں جو اس وقت علاج کے سلسلے میں عراق سے باہر ہیں۔
امریکہ کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ 33 سالہ مقتدیٰ الصدر انتہائی غیر مستحکم شخصیت کے مالک ہیں جن کے بارے میں ان کے قریبی بھی مشکل سے ہی جانتے ہیں کہ ان کا اگلا قدم کیا ہو گا۔
دوسری طرف امریکی صدر جارج بش کا کہنا ہے کہ عراق میں نئی امریکی سکیورٹی حکمت عملی کے تناظر میں اگلے چند ماہ بہت اہم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزاحمت کاروں کے خلاف لڑائی کا دائرہ پھیل سکتا ہے۔