Wednesday, 23 May, 2007, 09:20 GMT 14:20 PST
لبنان میں فتح الاسلام شدت پسند گروپ اور فوج کے درمیان تین دن سے جاری شدید جھڑپوں میں بدھ کی رات کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں افراد محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔
طرابلس کے نواح میں واقع نہر البارد نامی فلسطینی مہاجر کیمپ جوگزشتہ تین روز سے میدان کارزار بنا ہوا تھا بدھ کی صبح اکا دکا گولیاں چلنے کے واقعات کی اطلاعات کے علاوہ قدرے خاموش رہا۔
لبنان میں فلسطینی گروپ الفتح کے قائد سلطان ابو النیان نے کہا ہے کہ البادر کے پناہ گزیں کیمپ میں غیر ملکی شدت پسندوں کو جائے پناہ نہیں مہیا کی جائے گی۔
قبل ازیں اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ جان ہومز نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ کیمپ کے اندر امداد پہنچنے دیں۔ یاد رہے کہ منگل کو امدادی قافلے بھی کیمپ میں خوراک اور پانی کی ترسیل کے لیے داخل ہوئے تھے لیکن انہیں اس وقت واپس جانا پڑا جب قافلے کی گاڑیوں کے نزدیک گولے گرے۔
ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ لبنانی حکومت کی جانب سے تین سو ملین ڈالر کی فوجی امداد کی درخواست پر غور کر رہی ہے۔
![]() |
کیمپ کے افسر حاجی رفعت نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ہزاروں مہاجرین جن میں مرد ،عورتیں اور بچے شامل ہیں، سرِ شام ہی پیدل یا گاڑیوں پر قریبی بداوی کیمپ کی جانب روانہ ہو گئے تھے‘۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایسی گاڑیوں کو جن پر دس کے قریب افراد سوار تھے، سفید جھنڈے لہراتے ہوئے نکلتے دیکھا گیا تھا۔
کیمپ کے رہائشی اشرف ابو خورج نے بی بی سی کو بتایا’حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ نہ بجلی ہے، نہ خوراک اور نہ ہی پانی۔ کیمپ میں کوئی ہسپتال بھی نہیں جبکہ بہت سے لوگ زخمی ہیں جو ہلاک ہو رہے ہیں‘۔