Wednesday, 23 May, 2007, 14:36 GMT 19:36 PST
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کے درمیان غزہ کی تازہ ترین صورت حال پر بات چیت ہوئی ہے۔
ان دو طرفہ مذاکرات کا مقصد حریف گروہوں حماس اور فتح پارٹی کے درمیان جاری تشدد کو روکنا اور اسرائیل کے ساتھ سیز فائر کی بحالی ہے۔
ان مذاکرات سے قبل اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں کئی عمارتوں پر فضائی حملے کیے ہیں جو اس کے مطابق حماس کے مزاحمت کار ہتھیار چھپانے کے لیے استمعال کرتے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے علاوہ حملوں کے اہداف میں اضافے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔
گزشتہ ہفتے سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تیس کے قریب فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے کم از کم گیارہ عام شہری ہیں۔
اسی دوران فلسطینی مزاحمت کاروں نے تقریباً 120 راکٹ اسرائیلی آبادی پر داغے ہیں جن میں ایک اسرائیلی ہلاک جبکہ 16 دوسرے زخمی ہوئے۔
بات چیت میں شرکت کے لیے فتح پارٹی کے رہنما محمود عباس غرب اردن سے غزہ گئے۔ اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والے اس حالیہ تنازع سے قبل حماس اور فتح کے وفادار مسلح افراد کے درمیان تصادم کا سلسلہ جاری تھا۔ دونوں گروہوں کے درمیان ہونے والی تازہ چھڑپوں میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہوگئے۔
![]() | |
| منگل کوغزہ پر اسرائیل نے تمام رات بمباری جاری رکھی (فائل فوٹو) |
غرب اردن میں بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا تھا کہ فتح پارٹی اور حماس کے درمیان لڑائی دراصل نظریاتی، عسکری قوت اور اقتدار پر کنٹرول کی ہے۔ تاہم اس وقت دونوں کےدرمیان جاری لڑائی کو ختم کرنے کے لیے آنے والے دنوں میں کوئی پرامن حل نکالنا ہی بڑی کامیابی ہوگی۔
غزہ میں جاری افراتفری پر قابو پانے کے لیے محمود عباس تمام اہم جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات بھی کریں گے۔ منگل کوغزہ کی پٹی پر اسرائیل نے تمام رات بمباری جاری رکھی۔
اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف حماس کے زیراستعمال عمارتیں تھیں جہاں وہ ہتھیار چھُپایا کرتے تھے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کے جنوبی حصے میں ایک گھر پر ہونے والی اسرائیلی بمبباری میں دو بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔