Monday, 21 May, 2007, 11:26 GMT 16:26 PST
عراق میں امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے چھاپہ مار حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز کو ہلاک کر دیا ہے اور اس کارروائی کے دوران پانچ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔
میجر جنرل ولیم کاڈویل کے مطابق اظہر الضلائمی شمالی بغداد میں ایک جھڑپ کے دوران اس وقت ہلاک ہوئے جب انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔
کہا جاتا ہے کہ اظہر الضلائمی نے کربلا میں امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
اس حملے کے دوران ایک امریکی فوجی کو موقع پر اور چار فوجیوں کو اغوا کے بعد ہلاک کیا گیا۔
اس سے قبل امریکی حکام نے بتایا تھا کہ مغربی بغداد میں چھ امریکی فوجی اور ایک مترجم ملک کے دارالحکومت میں گشت کرتے ہوئے مارے گئے۔
امریکی حکام کے مطابق الضلائمی کو جنوری میں امریکی عراقی افواج کے اڈے پر ایک ایسے حملہ آور کی کارروائی کے بعد سے تلاش کیا جا رہا تھا جو امریکی فوجی وردی میں ملبوس تھا، انگریزی بولتا تھا اور امریکی اسلحہ سے لیس تھا۔
میجر جنرل ولیم کاڈویل نے سی این این سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’اور جمعہ کو آخرِ کار ہم نے اسے تلاش کر لیا‘۔
بغداد سے اسی کلومیٹر جنوب میں ایک امریکی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ ان کی گاڑی ایک دھماکے کا نشانہ بنی تھی۔
الضلائمی کی تلاش |
بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سڑک کے کنارے نصب ہوئے بم غیر ملکی فوجیوں کے لیے اب تک سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
تشدد کے دیگر واقعات میں عراقی پولیس نے کہا ہے کہ بغداد میں کار بم کے حملوں میں پانچ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔