Sunday, 20 May, 2007, 05:07 GMT 10:07 PST
اسرائیل نے غزہ پر رات بھر کئی حملے کیے ہیں جبکہ حماس اور الفتح میں کئی روز کی لڑائی کے بعد امن قائم ہوا ہے۔ ایک اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ غزہ شہر میں ایک کار تھی جس میں حماس کے تین ارکان ہلاک ہو گئے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد حماس کو اس کی سرحد میں راکٹ حملے کرنے سے روکنا ہے۔
حماس اور الفتح نے امن کے قیام کے بعد ایک دوسرے کے یرغمال بنائے گئے تیس افراد رہا کر دیے۔ صلح کے اعلان کے بعد مسلح ارکان چھتوں سے نیچے آ گئے اور سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔
فلسطینی سکیورٹی حکام کے مطابق اسرائیل نے سنیچر کے روز غزہ کی پٹّی پر ایک اور حملہ کیا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے کہا ہے اس حملے کا نشانہ ’ راکٹ داغنے والے گروہ کے تین افراد تھے جنہوں نے کچھ ہی پہلے اسرائیل کی سرحد کی سمت میں ایک راکٹ داغا تھا۔‘
اس سے قبل اسرائیل میں طبی امداد کے اہلکاروں نے کہا کہ ایک سرحدی قصبے میں راکٹ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا تھا۔
چھ ماہ کے بعد اسرائیل نے گزشتہ بدھ کو پھر سے غزہ پر فضائی حملے شروع کیے ہیں۔ ان حملوں سے قبل اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں کئی راکٹ داغے گئے تھے۔
فضائی حملوں میں اب تک بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے پانچ کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس عمارت پر حملے میں مارے گئے جو اس کے بقول حماس کا ہیڈکوارٹر تھا۔
گزشتہ بدھ سے سنیچر تک اسرائیل غزہ شہر اور غزہ کی پٹّی پر راکٹوں اور میزائیلوں سے تیرہ حملے کر چکا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں میں اس کے جنوبی علاقوں میں کم سے کم ایک سو راکٹ داغے جا چکے ہیں جن میں سے کم و بیش دس جمعہ کو ایک قصبے میں گرے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر راکٹ حملوں کا مقصد اسرائیل کو فلسطینیوں کی اندرونی لڑائی میں گھسیٹنا ہے۔