Thursday, 17 May, 2007, 22:40 GMT 03:40 PST
غزہ شہر پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری کے بعد اب اس کے ٹینک بھی شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔ فضائی بمباری میں چھ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوئے تھے۔
اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ ان کی یہ کارروائی فلسطینیوں کی طرف سے ممکنہ حملے روکنے کے لیے ہے جبکہ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وہاں پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسرائیل ایک بڑی زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں حماس کے سکیورٹی ہیڈ کوارٹر کو بھی میزائل کا نشانہ بنایا تھا جس میں ہیڈ کوارٹر کی عمارت تباہ ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ عمارت حماس کے سرکردہ رہنماؤں کے استعمال میں ہوتی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد ہر طرف چیخ و پکار تھی اور مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی جبکہ باقی اپنی جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔
حماس کے عسکری بازو نے دھمکی دی ہے کہ حملے کا جواب دیا جائے گا۔
![]() | |
| الفتح اور حماس کے درمیان پرتشدد کارروائیاں جمعرات کو پانچویں روز بھی جاری رہیں |
اس دوران غزہ میں الفتح اور حماس کے دھڑوں میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیاں جمعرات کو پانچویں روز بھی جاری رہیں۔ ان کارروائیوں کے باعث کم و بیش پینتالیس لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔
الفتح اور حماس کے دھڑوں میں تشدد کے ساتھ ساتھ پھر معاہدے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن جھڑپوں کی وجہ سے بدھ کو تیس نامہ نگاروں سمیت بہت سے افراد کو کئی گھنٹوں تک گھروں کے اندر قید رہنا پڑا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حماس اور فتح کے حامیوں کے درمیان نزع اس بات پر شروع ہوئی کہ سکیورٹی افواج کا کنٹرول کس کے پاس ہے لیکن اب یہ جھڑپیں نیا رنگ اختیار کر چکی ہیں۔
حماس کی حکومت میں وزیرِ داخلہ جو آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے تھے، تشدد کے واقعات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔
نامہ نگار کہتے ہیں راکٹ داغنے کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ کسی طرح فلسطینیوں کی داخلی نزع میں اسرائیل کو گھسیٹا جائے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے کہا تھا کہ ضبط و تحمل کی پالیسی اس طرح جاری نہیں رہ سکتی اور راکٹ داغے جانے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔