Wednesday, 16 May, 2007, 06:39 GMT 11:39 PST
افغانستان میں نیٹو فورسز کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر ملا داداللہ کی ہلاکت کے بعد وہ طالبان کی جانب سے مزید حملوں کے لیے تیار ہیں۔
افغانستان میں نیٹو فورسز کے امریکی سربراہ جنرل ڈان میکنیل نے کہا کہ ملا داداللہ کی ہلاکت سے طالبان مزاحمت کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
جنرل میکنیل نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ طالبان چند ہفتوں کے اندر دوبارہ منظم ہوجائیں گے اور خودکش دھماکے جاری رکھیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گزشتہ بارہ مہینوں کے دوران ملا داداللہ افغانستان میں کافی اہم فوجی کمانڈر ثابت ہوئے، بالخصوص جنوبی افغانستان میں جہاں طالبان کی مزاحمت شدید ثابت ہوئی ہے۔
تاہم ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ملا داداللہ کی ہلاکت کا طالبان مزاحمت پر کتنا اثر پڑے گا کیونکہ طالبان کی کوئی مرکزی کمان نہیں ہے اور وہ اکثر چھوٹے گروہوں کی شکل میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔
جنرل میکنیل نے برطانوی اخبار فائننشیل ٹائمز کو بتایا کہ طالبان مزاحمت ’ہفتوں کے اندر‘ متحرک ہوجائے گی۔
حالیہ برسوں میں افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال افغانستان میں طالبان اور اتحادی افواج کے درمیان لڑائیوں میں چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔