http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 17 May, 2007, 01:44 GMT 06:44 PST

شہزادہ ہیری عراق نہیں جائیں گے

برطانیہ میں فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ شہزادہ ہیری کو جو فوج میں افسر ہیں عراق نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ ان کے وہاں تعینات ہونے سے ’ناقابلِ قبول خطرات‘ پیدا ہو سکتے ہیں۔

فوج کے سربراہ جنرل سر رچرڈ ڈینٹ کا کہنا تھا کہ اگر شہزادہ ہیری کو عراق میں دیگر فوجیوں کے ساتھ تعینات کیا جاتا ہے تو نہ صرف ان کے لیے خطرے کی بات ہوگی بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر برطانوی فوجیوں کے لیے بھی خطرات بڑھ جائیں گے۔

یہ اعلان جو کچھ عرصہ پہلے کیے جانے والے اس فیصلے سے بالکل الٹ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شہزادہ ہیری عراق میں محاذِ جنگ پر تعینات کیے جائیں گے، ان اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے کہ عراق میں شدت پسند گروپوں کا منصوبہ ہے کہ وہ شہزادے کو ہلاک کردیں یا اغواء کر لیں۔

شہزادہ ہیری تخت کی وراثت میں تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔

کلیرینس ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے: ’شہزادہ ہیری کو بہت مایوسی ہوئی ہے لیکن وہ اس فیصلے کے نتیجے میں فوج نہیں چھوڑیں گے‘۔

گزشتہ ماہ وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ شہزادہ ہیری عراق میں اپنی رجمنٹ کے ساتھ تعینات کیے جائیں گے۔ تاہم بدھ کو جنرل سر ڈینٹ نے کہا کہ خطے کا دورہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شہزادہ ہیری کو عراق نہیں جانا چاہیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری کو عراق بھیجنے کے حوالے سے وزراتِ دفاع کو کئی خطرات کا علم ہوا تھا لیکن فوج کو اس بات پر سب سے زیادہ تشویش تھی کہ بصرہ میں تعیناتی کی صورت میں ایران کی سکیورٹی شہزادے پر حملے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

مسٹر کیز نے جن کا اپنا بیٹا عراق میں تعیناتی کے دوران ہلاک ہوگیا تھا کہا ہے کہ انہیں یہ سن کر بہت مایوسی ہوئی ہے کہ شہزادہ ہیری کو عراق میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔ ’یہ تو وہی بات ہوئی کہ شہزادہ ہیری کی زندگی میرے بیٹے کی زندگی سے یا ان ڈیڑھ سو فوجیوں کی زندگیوں سے زیادہ قابلِ قدر ہے جو عراق میں مارے گئے ہیں۔‘