http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 15 May, 2007, 06:17 GMT 11:17 PST

سیاسی برطرفیاں، افسر مستعفی

امریکہ کے محکمہ انصاف کے ایک اعلی ترین افسر نے بش انتظامیہ کی طرف سے آٹھ وفاقی وکلاء کو سیاسی بنیادوں پر برخاست کرنے کے الزامات کے پس منظر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے آٹھ وفاقی وکلاء کو سیاسی بنیادوں پر برطرف کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان وکلاء کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں صحیح طرح سے ادا کرنے کی وجہ سے نوکریوں سے علیحدہ کیا گیا ہے۔

مستعفی ہونے والے افسر پال میکنلٹی نے اپنے تحریری استعفیٰ میں کہا ہے کہ وہ مالی اور خاندانی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔

بش انتظامیہ کی طرف سے آٹھ وفاقی وکلاء کے برخاست کرنے کے معاملے کی امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔

کانگریس میں اپنے ایک بیان میں میکنلٹی نے اپنے افسرِ اعلی البرٹو گونزالیز کے بیان کی ترید کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ میں ایک سرکاری وکیل کو اس لیے ہٹا گیا کہ اپنے من پسند وکیل کو ان کی جگہ نوکری دی جائے۔

وفاقی وکلاء کو نوکریوں سے برخاست کیئے جانے کے معاملے کے شروع ہونے سے اب تک میکنلٹی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے اعلی ترین افسر ہیں۔

ان کے مستعفی ہونے سے قبل محکمہ انصاف کے دو اور افسران اپنے استعفے پیش کرچکے ہیں۔

میکنلٹی کو اس عہدے پر کام کرتے ہوئے ابھی اٹھارہ ماہ ہی ہوئے تھے۔
اس عہدے پر فائز ہونے سے قبل وہ الیکزندیہ اور ورجینیا میں سرکاری وکیل رہ چکے ہیں جہاں انہوں نے گیارہ نومبر کے بعد دہشت گردی سے متعلق کئی کیسوں میں سرکار کی پیروری کی تھی۔ ان میں ذکریہ موسوی کا مقدمہ شامل تھا جنہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں میں کی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔