http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 16 May, 2007, 01:00 GMT 06:00 PST

فلسطینی بندوقوں کے سائے میں

فلسطین کے دو اہم سیاسی دھڑوں کو مل کر قومی وحدت کی حکومت چلانی ہے لیکن ان دونوں ہی دھڑوں کے بندوق بردار حامی غزہ کی سڑکوں پر شدید لڑائی میں مصروف ہیں۔ان تازہ جھڑپوں کی وجہ سے قومی وحدت کی حکومت گرنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

اگر ایسا ہوا تو حالات اور بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ سکیورٹی کے موجودہ حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کہ سڑکوں پر لڑائی میں مصروف ان بندوق برداروں پر انتظامیہ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔

ایسے میں عام فلسطینیوں کا پوچھنا ہے کہ حکومت کے گرنے سے کیا واقعی حالات مزید خراب ہوں گے۔

گزشتہ برس کے انتخابات میں حماس کی غیر متوقع جیت کے بعد اس کی انتظامیہ کا عالمی سطح پر بائیکاٹ کیا گیا کیونکہ انتظامیہ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسرائیل نے بھی ٹیکس کے وہ کروڑوں ڈالر دینے سے انکار کر دیا جو وہ فلسطینیوں کی جانب سے اکٹھا کرتا ہے۔

اسرائیل کے اس اقدام کی وجہ سے فلسطین کی معیشت پر خاصا دباؤ پڑا ہے اور لاکھوں سرکاری ملازمین کو سال بھر سے پوری تنخواہ نہیں مل سکی ہے۔

اس سال فروری میں مکہ میں الفتح اور حماس کے درمیان قومی وحدت کی حکومت بنانے کا معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد زیادہ تر فلسطینیوں کو امید تھی کہ اب عالمی پابندی ختم ہو جائے گی اور امن بھی قائم ہوجائے گا لیکن دونوں میں سے ایک بات بھی ممکن نہ ہو سکی۔

عالمی برادری نے نئی حکومت کی تشکیل کے بعد فوری فیصلہ نہ لیتے ہوئے انتظار کرنے کی پالیسی اختیار کی۔

حماس اور الفتح کے حامیوں پر سیاسی رہنماوں کی اپیلیں اثر نہیں کر رہیں اور جیسے جیسے تشدد میں اضافہ ہوگا حکومت کی مشکلیں بڑھتی جائیں گی۔

حماس کے خیال میں الفتح بد عنوان ہے جبکہ الفتح کی نظر میں حماس ایک شدت پسند گروہ ہے اور دونوں ہی گروپ کی حامی اقتدار میں شراکت کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے۔