http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 15 May, 2007, 23:34 GMT 04:34 PST

لندن بمبار کی بیوہ رہا

پولیس نے سات جولائی کو لندن میں ہونے والے بم حملوں میں شامل صدیق خان کی بیوہ سمیت تین افراد کو بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا ہے۔

البتہ رہائی پانے والے تینوں افراد سے پولیس نے دو سال قبل سات جولائی کو بم حملوں کے بارے میں کافی سوالات پوچھے۔ سات جولائی دو ہزار پانچ کے خود کش حملوں میں باون لوگ مارے گئے تھے۔

انتیس سالہ حسینہ پٹیل، ان کے بھائی ارشاد پٹیل اور عمران کو نو مئی کو مغربی یارکشائر اور برمنگھم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم پولیس کو اس بات کی اجازت مل گئی ہے کہ وہ اگلے پیر تک خالد خلیق کو زیرِ حراست رکھ سکتی ہے۔ خالد کا تعلق لیڈز میں واقع بیسٹس سے ہے۔

حراست میں لیے جانے والے بائیس سے چونتیس برس کی عمروں کے ان چاروں افراد پر شبہہ تھا کہ انہوں نے دہشگردی کے اقدامات کی تیاری کی یا دوسروں کوایسے اقدامات پر اکسایا۔

گزشتہ ہفتے ہونے والی یہ گرفتاریاں ان خفیہ معلومات کی روشنی میں کی گئیں تھیں جو سکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشتگردی کے ادارے نے اپنی مغربی یارکشائر اور مغربی مِڈ لینڈز کی ٹیموں کے ساتھ مل کر جمع کیں۔

پولیس نے ڈیوزبری، بیسٹن اور برمنگھم میں سات گھروں کی تلاشی بھی لی۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیوں میں کچھ افراد کو جلدی چھوڑا جا سکتا ہے جبکہ کچھ کو ابھی زیرِ حراست رہنا پڑے گا۔ ’یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں اور بڑی اور پیچیدہ تحقیقات میں ایسا ہو سکتا ہے‘۔

حسینہ پٹیل کے وکیل عمران خان کا کہنا ہے انہیں اطمینان ہوا ہے کہ ان کی مؤکلہ رہا ہو گئی ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا ’جس طرح پولیس نے گرفتاری کے اس معاملہ سے نمٹا اس سے میں ابھی تک صدمے میں ہوں۔ ان کے اردگر رہنے والے پولیس کے طرزِ عمل سے بہت ناراض ہیں‘۔