Monday, 14 May, 2007, 10:57 GMT 15:57 PST
مختلف گروہوں کے درمیان حالیہ لڑائی کے بعد فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے اپنے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس استعفے کے نتیجے میں فلسطین میں جاری بحران شدید ہو سکتا ہے اور مخلوط قومی حکومت کے لیے ہونے والی مفاہمت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
وزیرِ داخلہ ہانی قواسمی نے سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے خلاف گزشتہ ماہ بھی استعفیٰ دیا تھا لیکن انہیں استعفیٰ واپس لینے پر آمادہ کر لیا گیا تھا۔
غزہ میں جاری جھڑپوں کے نتیجے میں گزشتہ دو دن کے دوران سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان جھڑپوں کو حماس اور فتح کے درمیان مخلوط حکومت کے قیام کے لیے ہونے والی مفاہمت کے بعد ہونے والی بد ترین جھڑپیں قرار دیا جا رہا ہے۔
ہانی قواسمی کو ایک غیر جانبدار شخصیت تصور کیا جاتا ہے اور ان کا تقرر کئی ماہ تک جاری رہنے والے اختلافات اور بحث و مباحثے کے بعد کیا گیا تھا۔
گزشتہ سال حماس کے منتخب ہونے اور حکومت بنانے کے بعد سے اب تک ہونے والی باہمی گروہی جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار سو تک پہنچ چکی ہے۔
فروری میں فتح اور حماس کے متحارب گروہوں کے درمیان مخلوط حکومت بنانے پر اتفاق کے بعد کئی بار جھڑپیں روکنے پر بھی مفاہمت ہو چکی ہے۔