Sunday, 13 May, 2007, 05:42 GMT 10:42 PST
افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کے فوجی کمانڈر ملا داد اللہ کو ملک کے جنوبی علاقے میں ایک لڑائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔
افغان خفیہ ادارے کے ترجمان کے مطابق ان کی ہلاکت افغان اور مغربی افواج کے ایک مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
ادھر ملا داد اللہ کے ترجمان شہاب الدین اتل نے بی بی سی اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ ملا داد اللہ کی ہلاکت کی خبر افغان اور امریکی پروپیگنڈہ ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی ملا داد اللہ کی ہلاکت یا گرفتاری کی جھوٹی خبریں آتی رہی ہیں اس لیے افغان حکام نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کے لیے لاش دکھانے کا فیصلہ کیا۔
ملا داد اللہ نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے پاس سینکڑوں خودکش بمبار ہیں جو ان کے حکم پر افغانستان میں موجود غیر ملکی فوجیوں کے خلاف آپریشن کر سکتے ہیں۔
ملا داد اللہ کا تعلق جنوبی افغانستان میں ہونے والی اغواء کی حالیہ وارداتوں سے بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔ ہرات میں بی بی سی کے الیسٹر لیتھ ہیڈ کے مطابق ملا داد اللہ کی جانب سے غیرملکیوں کے سر قلم کیے جانے کی ویڈیوز بھی جاری کی جاتی رہی ہیں۔
ملا داد اللہ سنہ 2001 میں افغانستان میں امریکی کارروائی کے آغاز سے قبل طالبان کی دس رکنی رہنما کونسل کے رکن تھے۔ نیٹو حکام کی جانب سے انہیں’ افغانستان کا سب سے بڑا طالبان کمانڈر‘ قرار دیا جاتا تھا اور ان کا نام امریکہ کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل تھا۔