Saturday, 12 May, 2007, 02:46 GMT 07:46 PST
یورپی ممالک کی سخت مخالفت کے باوجود زمبابوے کو اقوامِ متحدہ کے ’کمیشن آن سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ‘ (سی ایس ڈی) کی سربراہی کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔
یورپی اور افریقی سفارتکار اقوامِ متحدہ میں اس بات پر کافی دیر بحث کرتے رہے کہ آیا اقوامِ متحدہ کے اس اہم ادارے کی سربراہی زمبابوے کو دی جائے کہ نہیں۔
افریقی ممالک نے زمبابوے کو ’کمیشن آن سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ‘ (سی ایس ڈی) کی صدارت کے لیے نامزد کیا تھا۔
یورپی یونین نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی مہم شروع کی تھی کہ زمبابوے کے اقتصادی اور انسانی حقوق کے ریکارڈ اسے اس کے لیے ناموزوں بناتے ہیں۔
زمبابوے نے اس طرح کی تنقید کو رد کرتے ہوئے اسے ایک بے عزتی سے تعبیر کیا تھا۔
اقوامِ متحدہ میں زمبابوے کے سفارتکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سسٹین ایبل (تحفظ پسندانہ) ترقی کا انسانی حقوق سے کیا تعلق ہے۔‘
اس ادارے کی صدارت دنیا کے مختلف علاقوں کے درمیان گھومتی رہتی ہے اور اب افریقہ کی باری ہے۔
یورپی ممالک افریقی گروپ کو کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی اور امیدوار کو نامزد کریں۔
اقوامِ متحدہ میں زمبابوے کے سفارتکار بونیفیس چدیاؤسیکو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس ادارے کی سربراہی کا مستحق ہے۔
’یہ ہمارا حق ہے۔ ہم اقوامِ متحدہ اور سی ایس ڈی کے رکن ہیں، اور افریقی گروپ نے ایک فیصلہ کیا ہے اور زمبابوے کی تائید کی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’چائے کے کپ میں طوفان اٹھایا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو چاہیئے کہ وہ افریقی بلاک کے فیصلے کی تعظیم کریں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ جب افریقی گروپ کو کہتے ہیں کہ (فیصلہ) بدل لیں تو یہ ہماری سمجھ کی فہم کی بے عزتی ہے کہ ہم افریقی سوچ بھی نہیں سکتے۔‘