Thursday, 10 May, 2007, 14:36 GMT 19:36 PST
اینڈریو مار
سابقہ ایڈیٹر بی بی سی برائے امور سیاست
ٹونی بلیئر جب لیبر پارٹی کے رہنماء کے طور پر سامنے آئے تو ایسا لگا کہ ذرائع ابلاغ کے ساتھ تعلقات اور صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے تمام سابقہ روایات کو توڑا ہے۔
طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے کے بعد جب کوئی مایوسی، غصے اور اکتاہٹ کے احساسات پیچھے چھوڑ کر جا رہا ہوتا ہے تو یہ بھولنا آسان ہوتا ہے کہ کبھی وہ کیسے تروتازہ نظر آیا کرتا تھا۔
لیکن شروع سے ہی اس کا ایک بڑا حصہ ’سپِن‘ دینے پر مبنی تھا۔
جی ہاں! یہ بالنگ سے متعلق ہے، بیس بال اور کرکٹ دونوں میں، لیکن گزشتہ صدی نوے کی دہائی میں سیاست میں اس کا استعمال اصطلاح کے طور پر کیا جانے لگا۔ ایسی اصطلاح جس کا مظاہرہ ویسٹ منسٹر میں بیٹھے برطانوی سرکاری اہلکار کالم نگاروں کو متاثر کرنے کے لیے کرتے۔
امریکہ میں ’سپن ڈاکٹر‘ کی اصطلاح اسی کی دہائی سے مروج تھی، لیکن برطانیہ میں یہ بلیئرازم کی دین ہے کہ اب بیشتر لوگ ’سپن‘ کی اصطلاح سے واقف ہیں اور اس سے مراد اب گاڑی میں گھومنا یا کپڑے دھونا نہیں لیا جاتا۔
بلیئر کے زیر اثر لیبر پارٹی کی حکومت جدید برطانوی تاریخ میں ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے کی سب سے زیادہ شوقین تھی۔ نتیجتاً ایک ٹیبلائڈ اخبار کے سابقہ ایڈیٹر الیسٹر کیمبل اور ٹیلی ویژن پر حالات حاضرہ کے ایک پروگرام کے پروڈیوسر پیٹر میڈلسن کو ٹونی بلیئر کی ساتھ قربت میں کام کرتے ہوئے دیکھ کر کسی کو حیرت نہ ہوئی۔
جارحانہ صحافت
بلیئر، براؤن، مینڈلسن اور کیمبل نے نیل کینک کو تھیچر کے دور میں ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے اشارے پر جارحانہ صحافت کے ہاتھوں پاش پاش ہوتے دیکھا اور طے کیا کہ وہ اپنے ساتھ ایسا نہیں ہونے دینگے۔ یہ سمجھ میں آنے والی بات تھی اور صحافیوں کو اس بارے میں زیادہ شکایت نہیں کرنی چاہیے۔
تمباکو سکینڈل
لیکن زیادہ پریشانی کی بات یہ تھی کہ ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں کو وہ بات کی جاتی جو وہ سننا چاہتے تھے۔ رپرٹ مرڈخ سے بات کرتے ہوئے ٹونی بلیئر یورپ مخالف نظر آتے اور یورپ نواز اداروں سے بات کرتے ہوئے وہ یورپ کی بڑے حمایتی کے طور پر سامنے آتے۔
بعض اوقات وہ شہری حقوق پر متفکر دکھائی دیتے اور کبھی وہ ایک سخت گیر ’مسٹر لاء اینڈ آرڈر‘ کے طور پر سامنے آتے۔ اس صورتحال میں لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا تھا کہ حقیقی طور پر بلیئر ہیں کیا؟
جب وہ اقتدار میں آئے تو آغاز میں ہی انہیں ’برنی ایکلیسٹن فارمولا ون سپانسرشپ‘ تنازعے کا سامنا کرنا پڑا، جس نے انہیں دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کیا اور انہیں یہ درخواست کرتے ہوئے دیکھا گیا کہ ان پر اعتماد کیا جائے۔
اس کے بعد چھوٹے چھوٹے کئی گھپلوں کا ایک سلسلہ سامنے آیا اور ’ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ‘ کے ذرائع ابلاغ سے تعلقات نے چکر بازی اور جارحیت دونوں کے حوالے سے شہرت پائی۔
خبروں اور تجزیوں میں استعمال کی گئی زبان کا جزیات میں جا کر تجزیہ بیانات کی وضاحت میں ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ بسا اوقات تو صاف جھوٹ بول دیا جاتا۔
نتیجتاً ذرائع ابلاغ اور ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے درمیان تعلقات خراب ہوتے چلے گئے اور ’سپن‘ ایک آزاد خیال جمہوریت میں حکومت کرنے کے ایک کامیاب ہتھیار سے زیادہ ایک غلطی بن کر رہ گئی۔
معاملات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ٹونی بلیئر اگر کوئی بات یقین کے ساتھ بھی کہہ رہے ہوتے تو ان کا اعتبار نہ کیا جاتا۔
ہٹن انکوائری
اس حوالے سے زیادہ تر بحث و تمحیض مصنوعی تھی۔ لیکن سائنسدان ڈیوڈ کیلی کی موت اور ہٹن انکوائری کے نتیجے میں بی بی سی پر پڑنے والے اثرات نے اس بحران کے مختلف ہونے کی طرف اشارہ کیا۔
لارڈ ہٹن نے بلیئر کو اگرچہ الزامات سے بری کر دیا لیکن یہ سمجھا جانے لگ گیا کہ ’سپن‘ فائدے سے زیادہ نقصان کر رہی ہے۔
الیسٹر کیمبل بلیئر کی ٹیم سے علیحدہ ہوگئے اور ڈیوڈ ہِل کی قیادت میں ایک زیادہ روایتی میڈیا ٹیم کو سامنے لایا گیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ’سپن‘ کے حوالے سے تنازعہ ختم ہوگیا۔
یہ بلیئر کے دور کے ساتھ ایسے ہی ایک ’گھٹیا‘ حرکت کے طور پر یادوں میں رہے گی جیسے جان میجر کے دور میں رہی۔ یہ سب سے اہم بات نہیں تھی۔ یہ مکمل سچ بھی نہیں۔
لیکن یہ بارہ برس قبل ابلاغ میں شفافیت کے کیے گئے وعدوں کے برعکس بلیئر اور عوام کے درمیان ایک بے ڈھنگے اور میلے کچیلے شیشے کے طور پر رہے گا۔