http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 06 May, 2007, 21:06 GMT 02:06 PST

فرانس کے انتخابات سرکوزی کامیاب

فرانس کے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے رہنما نکولس سرکوزی نے کامیابی حاصل کرلی ہے اور ان کی سوشلسٹ حریف امیدوار سیگولین روئل نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے تین چوتھائی ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے اور اس میں دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے نکولس سرکوزی نے تریپن فیصد ووٹ حاصل کیئے ہیں جبکہ ان کی مد مقابل سوشلسٹ جماعت کی امیدوار سیگولین روئل کو سینتالیس فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

امریکی جماعتوں کی طرف سے خیرمقدم

سرکوزی کی انتخابی فتح

باون سالہ سرکوزی جن کے والد نے ہنگری سے ہجرت کرکے فرانس میں سکونت اختیار کی تھی، چوہتر سالہ ژاک شیراک سے اقتدار حاصل کریں گے۔ ژاک شیراک گزشتہ بارہ سال سے اقتدار میں ہیں۔

سرکوزی نے اپنی کامیابی کے بعد تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس کے لوگوں نے ماضی کی خراب ’عادتوں‘ کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

سرکوزی کی جیت کے اعلان کے ساتھ ہی پیرس میں جمع ان کے ہزاروں حامیوں نے خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

سرکوزی نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ وہ فرانس کے تمام لوگوں کے صدر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ فرانس نے انہیں سب کچھ دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ جو کچھ فرانس نے انہیں دیا اس کے بدلے میں فرانس کی خدمت کریں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ فرانس کی دوستی پر بھروسہ کرسکتا ہے تاہم انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ دنیا میں رونما ہونے والی آب و ہوا کی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کرے۔

سرکوزی نے کہا کہ وہ یورپ کے اتحاد پر یقین رکھتے ہیں تاہم انہوں نے فرانس کے ساتھیوں سے کہا کہ وہ سماجی تحفظ کی اہمیت کو پہچانیں۔

انتخابی فتح پر ان کی تقریر کے بعد ان کے حامیوں نے فرانس کا قومی ترانہ گایا۔

فرانس کے صدارتی انتخابات میں پہلی مرتبہ کوئی خاتون امیدوار صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کر سکی ہے۔

فرانس کی صدارت کے انتخابی معرکہ میں سوشلسٹ پارٹی کی مسلسل تیسری شکست پر انہوں نے فرانس کے ایک کروڑ سترہ لاکھ ووٹروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پارٹی کے حامیوں کے دکھ اور کرب کو سمجھ سکتی ہیں۔