Friday, 04 May, 2007, 11:09 GMT 16:09 PST
برطانیہ کے علاقائی اور مقامی انتخابات میں وزیراعظم ٹونی بلیئر کی جماعت لیبر پارٹی کو زبردست شکست کا سامنا ہے۔
تین مئی کو انگلینڈ میں لوکل کونسل، ویلز میں ویلش اسمبلی اور اسکاٹ لینڈ میں لوکل کونسل اور وہاں کی پارلیمان کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی۔ ووٹنگ کی گنتی جمعہ کے روز کی جارہی ہے۔
ان انتخابات کے نتائج کو وزیراعظم ٹونی بلیئر کے لیے ذاتی طور پر ایک دھچکا سمجھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
برطانیہ کی سب سے بڑی اپوزیشن کنزرویٹِو پارٹی کے رہنما ڈیوِڈ کیمرون نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ آج کے انتخابی نتائج سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ان کی پارٹی حقیقت میں ایک ملک گیر جماعت ہے۔
کنزرویٹِو پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کے راستے پر ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے نتائج
کنزرویٹِو پارٹی کی کامیابی |
پارلیمان کی 129 میں سے 81 سیٹوں کے نتائج آئے ہیں جن میں لیبر کو 32، ایس این پی کو 31، لِبرل ڈیموکریٹز کو 11 اور کنزرویٹِو کو سات اور دیگر جماعتوں کو ایک سیٹ ملی ہے۔
لِبرل ڈیموکریٹز کے رہنما سر مینزیز کیمبل سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ ایس این پی کی حمایت کریں گے جس نے برطانیہ سے علیحدگی کی بات کی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’بالکل نہیں۔‘
ویلز کے نتائج
ویلز میں بھی ابتدائی نتائج سے لگتا ہے کہ لیبر پارٹی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بنی رہے گی تاہم اسمبلی پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھے گی۔
لیبر پارٹی کو اسمبلی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تیس سیٹوں کی کمی کا سامنا ہے۔ جبکہ کنزرویٹِو اور پلائڈ کمری کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پلائڈ کمری نے کہا ہے کہ عوام نے ’تبدیلی کے لیے ووٹِ‘ دیا ہے۔
انگلینڈ کے نتائج
اسکاٹ لینڈ کے علاوہ انگلینڈ میں بھی لوکل کونسل کے لیے ووٹنگ ہوئی ہے۔
جمعہ کے روز ووٹوں کی گنٹی تاخیر سے شروع ہوئی، البتہ ابتدائی نتائج کے رجحان سے لگتا ہے کہ وہاں صرف کنزرویٹو پارٹی کو فائدہ ہوا ہے۔ جبکہ لیبر پارٹی، لِبرل ڈیموکریٹز اور دیگر جماعتوں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کنزرویٹِو پارٹی نے پورے برطانیہ میں لگ بھگ 41 فیصد جبکہ لیبر نے 27 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ کنزرویٹو کا کہنا ہے کہ وہ اتنے ووٹوں سے آئندہ عام انتخابات جیت لیں گے جبکہ لیبر کا کہنا ہے کہ کنزرویٹو کو مزید ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔