Thursday, 03 May, 2007, 21:15 GMT 02:15 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی واشنگٹن
امریکی کانگریس کے بعض اہم ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن ارکان نے بھارتی وزیرِ اعظم کے نام خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے تو اسے ایران کے ساتھ اپنے رشتوں پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔
بھارتی وزیرِاعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے نام خط میں امریکی اراکینِ کانگریس نے ایران کے ساتھ بھارت کے رشتوں پر ’گہری تشویش‘ ظاہر کی ہے۔
خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ بھارت اور ایران کے درمیان فوجی اور توانائی کے شعبے میں تعاون بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ ایٹمی سمجھوتے کی منظوری پر ’نقصان دہ اثرات‘ ڈال سکتا ہے۔
اس خط پر امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے اہم ڈیموکریٹ رکن ٹام لینٹاس اورکمیٹی کے سینیئر ریپبلیکن رکن سمیت سات اراکینِ کانگریس نے دستخط کیے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں کانگریس کے اراکین نے بھارت ایران تعلقات پر اس قسم کے تشویش بھرے خط پہلے بھی بھارتی وزیراعظم کے نام لکھے ہیں۔
لیکن بدھ کے روز روانہ کیے جانے والے اس تازہ خط میں ان کا لب و لہجہ نسبتاً سخت نظرآتا ہے۔
امریکی کانگریس میں ایران کی کٹر مخالف لابی مطالبہ کرتی رہی ہے کہ اگر امریکہ بھارت کے ساتھ عالمی سطح پر ایک نئی پارٹنرشپ کرنے جا رہا ہے تو اس کے لیے بھارت کو ایران کے ساتھ اپنے رشتوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔
کانگریس کے ارکان کی طرف سے بھارت پر دباؤ بڑھانے کی یہ تازہ کوشش ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان ایٹمی توانائی کا مجوزہ معاہدہ بعض اختلافی نکات کی وجہ سے تعطل کا شکار نظر آتا ہے۔
![]() | |
| ایران نےکہا تھا کہ وہ امریکہ کے اعتراض کے باوجودبھارت کے ساتھ قدرتی گیس پائپ لائن کے معاہدے پر قائم رہے گا |
بات چیت کا اگلا دور اب دہلی میں ہوگا جس میں شرکت کے لیے مرکزی امریکی مذاکرات کار نکولس نرنس مئی کے آخر میں وہاں پہنچیں گے۔
دونوں حکومتوں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں اختلافات دور کر کے سمجھوتہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔