Thursday, 03 May, 2007, 01:07 GMT 06:07 PST
اسرائیلی وزیر خارجہ نے وزیراعظم یہود اولمرت سے کہا ہے کہ وہ استعفی دے دیں کیونکہ گزشتہ برس لبنان میں ہونے والی جنگ سے نپٹنے کے طریقے پر ایک رپورٹ میں ان پر شدید تتنقید کی گئی ہے۔
وزیر خارجہ ٹزیپی لوینی نے کہا کہ نہ تو وہ استعفی دیں گی اور نہ ہی وہ یہود اولمرت کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کریں گی لیکن ان کی جگہ لینے کے لیے بطور امیدوار کھڑی ہوں گی۔
اولمرت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہود اولمرت استعفی نہیں دیں گے بلکہ رپورٹ میں شائع ’غلطیوں‘ کو سدھارنے کی کوشش کریں گے۔
ایک ریٹائرڈ جج الیاہو ونوگریڈ کی جانب سے چھ ماہ کی تحقیقات کے بعد شائع ہونے والی اس رپورٹ میں وزیر اعظم پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ 34 روزہ جنگ کے دوران ذمہ دارانہ اور صحیح فیصلے کرنے میں ناکام رہے۔
وزیر اعظم یہود اولمرت کے ساتھ مذاکرات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ٹزیپی لوینی نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے کہہ دیا ہے کہ ’ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ استعفی دے دیں‘۔
اس کے کچھ دیر بعد ہی کدیمہ اتحاد کے چئیرمین اویگدور یتزاقی نے کھلے عام وزیر اعظم سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔
انہوں نے کہا ’یہ وزیر اعظم اور میرے درمیان کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ ہم دونوں سے بہت بڑی بات ہے‘۔
محترمہ لوینی نائب وزیر اعظم کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔
اس سے قبل یہود اولمرت نے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں کہا تھا کہ یہ ان کے استعفی دینے کے لیے مناسب وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ اس رپورٹ کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس رپورٹ کی ایسے حلقوں میں بھی تعریف کی گئی ہے جہاں اس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی ۔ حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے بیروت میں ایک جلسے میں کہا کہ اس رپورٹ کا احترام کیا جانا چاہئیے۔