Tuesday, 01 May, 2007, 11:19 GMT 16:19 PST
پوری دنیا میں دہشتگر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس ان حملوں میں بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے دہشتگردی سے متعلق جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اضافے کی وجہ عراق میں ہونے والے تشدد کے واقعات ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کو بڑھاوا دینے والے ملکوں میں ایران سب سے اوپر ہے اور ایران کو ہی پورے مشرقی وسطیٰ ، خاص طور پر عراق میں شدت پسندگروہوں کی حمایت کرنے والا ملک بتایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کولمبیا کے باغیوں کو وینزولا کی سرزمین استعمال کرنے دیے جانے پر وینزولا پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔
عراق میں ہونے والے حملوں کی تعداد تقریبا دوگنی ہو کر 6630 پہنچ گئی ہے۔ یہ پوری دنیا میں ہونے والے دہشتگر حملوں کا 45 فیصد ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران شعیہ ملیشیا کی حمایت کر کے عراق کے حالات خراب کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ شام کو یہ دشہگردی کی حمایت کرنے والا دوسرا ملک بتایا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس دہشتگر حملوں میں 700 بچے ہلاک اور 1100 زخمی ہوئے ہیں۔ان حملوں کے سبب بچوں کی ہلاکتوں میں سال 2005 کے مقابلے اس برس 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ کے انسداد دہشتگردی کے مرکز (این سی ٹی سی) کے مطابق القاعدہ حملوں کے لیے نئےمنصوبہ تیار کر رہی ہے۔
این سی ٹی سی کے ڈائرکٹر فرینک اربینسک کا کہنا ہے ’ ہم نے القاعدہ کے کئی دہشتگردوں کو پکڑا ہے لیکن اب بھی وہ قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں‘۔