http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 01 May, 2007, 11:09 GMT 16:09 PST

اولمرت کے خلاف ایک وزیر مستعفی

اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر لبنان کے خلاف جنگ میں اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار کے خلاف احتجاجاً مستعفیٰ ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ لبنان کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اس کا اظہار گزشتہ رات ٹیلی ویزن پر خطاب کے دوران کیا۔

ایہود اولمرت پر استعفےکے لیے دباؤ

لبنان پر حملے کے سلسلے میں احتجاج کا سلسلہ ایک بار پھر اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد شروع ہوا ہے جسے تیار کرنے والے کمیشن کے کو خود ایہود المرت نے مقرر کیا تھا۔

یہ تقرر اس وقت کیا گیا تھا جب گزشتہ جولائی میں لبنان پر کیے جانے والے حملے کے حوالے سے اسرائیل میں شدید احتجاج کیا جا رہا تھا۔

لبنان پر کیے جانے والے حملے پر معترض ہونے والوں کا کہنا ہے کہ اس جنگ سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہو سکا، نہ تو اس حملہ سے لبنان کی مسلح تحریک حزب اللہ کو ختم کیا جا سکا، نہ ہی ان دو فوجیوں کی واپسی ممکن ہو سکی جن کے اغواء کو لبنان پر حملے کا جواز قرار دیاگیا تھا۔ اس کے علاوہ چونتیس دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کے نتیجے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہلاک ہوئی تھی۔

میں ایسی کابینہ کا رکن نہیں رہ سکتا
 اسرائیلی کابینہ کے مستعفی رکن ایتان کیبل نے کہا ہے کہ وہ ایسی حکومت کی کابینہ کا رکن نہیں رہ سکتے جس کے سربراہ ایہود اولمرت ہوں
 

مذکورہ بالا رپورٹ میں وزیراعظم ایہود اولمرت کے کبنان پر حملے کے فیصلے کو غلط ناکامی کا باعث قرار دیا گیا ہے۔

ایتان کیبل اسرائیلی کابینہ کے پہلے رکن ہیں جنہوں نے لبنان پر حملے کے حوالے اس استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’میں ایسی حکومت کی کابینہ کا رکن نہیں رہ سکتا جس کے سربراہ ایہود اولمرت ہوں‘۔

مسٹر کیبل نے کہا ہے کہ ایہود اولمرت کو مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ وہ لوگوں کا اعتماد کھو چکے ہیں۔