Tuesday, 01 May, 2007, 11:44 GMT 16:44 PST
عراق کی وزارت داخلہ کے مطابق ملک میں القاعدہ کے سربراہ ابو ایوب المصری ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت کے مطابق المصری بغداد کے شمال میں مزاحمت کاروں کی باہمی لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں اور اس میں امریکی اور عراقی سکیورٹی فورسز کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
تاہم القاعد سے تعلق رکھنے والے ’عراق میں اسلامی ریاست‘ نامی گروہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ابو ایوب المصری ہلاک ہو چکے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایک ترجمان عبدل کریم خلف کہتے ہیں ’اِس مجرم کی ہلاکت سے وزارت داخلہ یا کسی دوسری سکیورٹی فورس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ النباعی نامی قصبے میں القاعدہ کے اندرونی اختلافات کی بنا پر ایک مسلح جھڑپ ہوئی، جس میں یہ ہلاکت ہوئی اور جھڑپ کے موقعہ پر وزارت داخلہ کے بااعتماد ذرائع موجود تھے جنہوں نے اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے‘۔
ابھی ابو مصری کی لاش نہیں ملی ہے اور نہ ہی امریکی فوج نے اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ابو مصری کےسر پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام ہے۔
ابو ایوب المصری عراق میں القاعدہ کے سنی مزاحمت کاروں کے گروہ کی رہنمائی کرتے ہیں جو امریکی اور عراقی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مزاحمت کاری کے خلاف تازہ مہم شروع ہونے کے بعد سے کئی خودکش اور کار بم حملوں میں ملوث ہیں۔
ابو مصری کی لاش نہیں ملی |
زرقاوی امریکی فوج کی ایک کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے اور امریکیوں کی جانب سے زرقاوی کی ہلاکت کو عراق میں مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیے جانے کے باوجود سنی مزاحمت کاروں کی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
تجزیہ نگار ابو ایوب المصری کی مبینہ ہلاکت کے بعد بھی عراق میں تشدد میں کمی کے امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ اُدھر پولیس کے مطابق آج بسوں پر کیے جانے والے مختلف حملوں میں چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔