Sunday, 29 April, 2007, 17:42 GMT 22:42 PST
ترکی میں صدارتی انتخابات کے تنازعہ کے دوران ہزاروں لوگوں نے اتوار کو استنبول میں سیکولرازم کے حق میں مظاہرہ کیا ہے۔
مظاہرین کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ حکومتی جماعت کے صدارتی امیدوار اپنی اسلامی بنیادوں کے ساتھ مخلص رہیں گے۔
عبداللہ گل صدراتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جیت نہیں سکے کیونکہ حزب مخالف کے ارکان اسمبلی نے اس مرحلے کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ یہ ارکان اس مرحلے کی قانونی حیثیت کو آئینی عدالت میں چیلنج بھی کر رہے ہیں۔
جمعہ کو فوج نے اپنے ایک بیان میں حکومت پر شدت پسند اسلام کو برداشت کرنے پر تنقید کرنے کے علاوہ اس بات کا بھی اعادہ کیا تھا کہ فوج مذہب اور سیاست کو الگ رکھنے کے اپنے مؤقف پر قائم رہے گی۔
![]() | |
| عبداللہ گل کو قدرے نرم خیالات کا حامل سمجھا جاتا ہے |
عبداللہ گل نے وزیرخارجہ کے طور پر ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے لئے ہونے والے مذاکرات میں ملک کی نمائدگی کی تھی اور انہیں جسٹس پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم طیب اردغان کے مقابلے میں قدرے نرم خیالات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
صدارت کے امیداوار کے طور پر اپنی نامزدگی پر انہوں نے کہا تھا ’ترکی کے صدر کے لیے ضروری ہے کہ وہ مذہب اور سیاست کو الگ رکھنے کا قائل ہو اور اگر میں صدر منتخب ہوتا ہوں تو میں ایسا ہی کروں گا۔‘ لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عبداللہ گل اپنی مذہبی بنیادوں سے قربت رکھتے ہیں اور ان کی اہلیہ ملک کی پہلی خاتون اول ہوں گی جو سر پر سکارف لیں گی۔
ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک کے سکیولر الیٹ کو خدشہ ہے کہ عبداللہ گل کی کامیابی سے ترک جمہوریہ کو نقصان ہوسکتا ہے۔
فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کو آئینی عدالت کے لیے اشارہ سمجھا جارہا ہے۔
دوسرے دور کی ووٹنگ بدھ کو متوقع ہے اور ترکی کی آئینی عدالت نے کہا ہے کہ اور بدھ سے قبل ہی اس بارے میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اگر آئینی عدالت نے پہلے دور کی ووٹنگ کو ناقص قرار دیا تو وزیراعظم طیب اردغان کو ملک میں عام انتخابات کرانے ہوں گے۔