http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 29 April, 2007, 16:33 GMT 21:33 PST

ایران امریکہ ملاقات کا امکان

ایران کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے ہونے والی اہم علاقائی کانفرنس میں شرکت کرےگا۔

یہ کانفرنس اسی ہفتے مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں منعقد ہو رہی ہے جس میں ایرانی وفد کی سربراہی وزیرِ خارجہ منوچہر متقی کریں گے۔

ایران کے اس فیصلے پر عراقی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ کانفرنس کے موقع پر ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت بھی ہو۔

ہوشیار زبیری کا کہنا تھا کہ یہ ممکنہ بات چیت وزارتی سطح پر تو یقیناً نہیں ہوگی تاہم یہ ایک اہم قدم ہوگا۔ انہوں نے کہا’میرے نزدیک یہ اہم ہے اور یہ تناؤ میں کمی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا جس کا مثبت اثر عراق کے حالات پر بھی پڑے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ عراق کی سرزمین پر لوگ اپنے مفادات کی جنگ لڑیں۔ یہ ہمارے لیے بہت نقصان دہ ہے‘۔

تہران میں بی بی سی کے نمائندے فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے ایران ابتداء میں اس کانفرنس میں شرکت سے اس لیے گریزاں تھا کیونکہ وہاں اس کی موجودگی کا مطلب امریکہ سے رابطہ تھا جس کے قبضے میں اس کے پانچ سفارت کار ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق اس کانفرنس سے ایران کو ایک موقع ملے گا کہ وہ عراق کے معاملے پر اپنے اچھے عزائم کا اظہار کرے اور امریکہ سے اپنے تعلقات میں بہتری لا سکے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے خبر دی ہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے ایرانی ویزا کے لیے درخواست دی ہے۔ اگر انہیں ویزا فراہم کر دیا جاتا ہے تو وہ بیس سال میں ایران کا دورہ رکنے والی پہلی سینئر امریکی سیاستدان ہوں گی۔

تہران میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق ایران میں نینسی پلوسی کو ویزا دینے کے معاملے پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ سخت گیر موقف کے حامی علماء کے خیال میں انہیں ویزا دینا ایران کے مفاد میں نہیں جبکہ اعتدال پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکی سپیکر کو ویزا دینے میں کوئی حرج نہیں۔

امریکی سپیکر اس سے قبل اس ماہ کے آغاز میں شام کا دورہ بھی کر چکی ہیں جسے صدر بش نے شام کو تنہا کرنے کی امریکی کوششوں کو نقصان پہچانے کے مترادف قرار دیا تھا۔