افغانستان میں سرکاری حکام کے مطابق ملک کے مشرقی علاقے میں نیٹو کی قیادت میں لڑنے والی فوجوں اور طالبان کے درمیان ایک جھڑپ میں گیارہ طالبان جنگجو مارے گئے ہیں۔
ادھر فرانس کی وزارت خارجہ نے تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان میں طالبان نے ان کی ایک شہری کو رہا کر دیا ہے۔
مشرقی افغانستان میں طالبان پر نیٹو کے اس فضائی حملے سے پہلے پولیس اور طالبان کے درمیان ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔
پولیس کے صوبائی ترجمان کے مطابق ’دشمنوں‘ کو سب سے زیادہ نقصان نیٹو کے ہیلی کاپٹر سے کی جانے والی فائرنگ سے پہنچا۔
نیٹو کے ایک ترجمان نے واقے کے بارے میں بتایا کہ اس میں کوئی عام شہری یا نیٹو کا سپاہی نہیں مارا گیا۔
طالبان اور پولیس کے درمیان جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب طالبان نے صوبہ خوست کے مقام علی شر میں واقع سرکاری عمارتوں پر حملہ کر دیا۔
![]() | |
| اغوا کیے جانے والے فرانسیسی مرد اور خاتون کی ایک ویڈیو ٹی وی پر دکھائی گئی تھی |
گزشتہ عرصے میں پاکستان کی سرحد کے قریب واقع صوبہ خوست طالبان کی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔
فرانس کی وزارت خارجہ کے اعلان سے پہلے طالبان نے کہا تھا کہ تین ہفتے قبل پکڑے جانے والے پانچ افراد میں سے ایک خاتون کو جنوبی صوبہ قندہار میں رہا کر دیا گیا ہے۔
طالبان کے ترجمان یوسف احمدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ آج (جمعہ) کے دن گرینچ کے وقت کے مطابق صبح گیارہ بجکر پانچ منٹ پر ’ایک فرانسیسی خاتون کو صوبہ قندہار کے قصبے میوند میں رہا کر دیا گیا ہے۔‘
تین افغانوں اور دو فرانسیسی افراد تین اپریل سے لاپتہ تھے۔
فرانس کی وزارت خارجہ نے جمعہ کی صبح اپنے بیان میں کہا ’ فرانسیسی حکام اس بات کی تصدیق کرتے ہیں مغویوں میں سے ایک، جن کا تعلق ایک امدای تنظیم سے ہے، کو آج صبح رہا کر دیا گیا ہے۔‘
پانچوں افراد بچوں کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’ ہمارے بچوں کی ایک دنیا‘ منسلک ہیں اور وہ افغانستان کے جنوب مغربی صوبے نمروز میں لاپتہ ہو گئے تھے۔
بیس اپریل کو انٹرنیٹ پر ایک پیغام کی وساطت نے طالبان نے مطالبہ کیا تھا کہ اغوا کیے جانے والے افراد کی رہائی کے بدلے ان کے پکڑے جانے والے ساتھیوں کو رہا کیا جائے اور نیٹو فوجیں افغانستان سے نکل جائیں۔
عربی زبان کی اس ویب سائٹ پر مزید کہا گیا تھا کہ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں مغویوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور برطانیہ نے اٹلی پر طالبان کے ساتھ ایک اطالوی باشندے کی رہائی کے لئے ڈیل کرنے پر تنقید بھی کی تھی۔ دونوں ممالک کو کہنا تھا کہ اٹلی نے اپنے شہری کی رہائی کے لیے طالبان کے ساتھ جو معاملہ کیا تھا اس سے افغانستان میں اغوا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور اتحادی فوجوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔