Friday, 27 April, 2007, 23:08 GMT 04:08 PST
سعودی عرب کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے تیل کی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر شدت پسندوں کے حملے کا ایک منصوبہ ناکام بنادیا ہے۔
سعودی وزارت داخلہ نے ریاستی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اس منصوبے میں ملوث گرفتار شدہ 172 مشتبہ شدت پسندوں میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق شدت پسندوں کا یہ منصوبہ کافی اگلے مرحلے میں تھا جسے ناکام بنادیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں ہتھیار اور بتیس اعشاریہ چار ملین ڈالر بھی برآمد کیے گئے۔
وزرات داخلہ نے سرکاری ٹیلی ویژن الاخباریہ کو بتایا: ’کچھ (شدت پسند) ہتھیاروں کے استعمال کی ٹریننگ شروع کرچکے تھے، اور کچھ کو دوسرے ممالک اس لیے بھیجا گیا کہ وہ ہوائی بازی کا مطالعہ کرسکیں تاکہ اس کا استعمال (سعودی) بادشاہت کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کے لیے کیا جاسکے۔‘
وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق شدت پسندوں نے کچھ ایسے ٹھکانے بھی چنے تھے جو سعودی عرب سے باہر ہیں۔ سعودی ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی تصاویر میں مختلف اقسام کے ہتھیار، رائفل، ہینڈ گن وغیرہ شامل ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ کچھ مشتبہ افراد کا ’تعلق بیرون ملک عناصر سے ہے۔۔۔ لیکن کوئی ضروری نہیں کہ القاعدہ سے۔‘
الترکی کے مطابق شدت پسند ایک جیل پر بھی حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے تاکہ قیدیوں کو چھڑا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ افراد طیارہ چلانے کی تربیت حاصل کررہے تھح تاکہ دہشت گرد حملے کرسکیں اور ان کے نشانے پر تیل کی تنصیبات تھیں۔