Sunday, 22 April, 2007, 13:17 GMT 18:17 PST
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے وطن واپسی کی کوشش میں ناکامی کے بعد فوج کی حمایت یافتہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بنگلہ دیش واپس جا کر مقدمات کا سامنا کرنا چاہتی ہیں اور وہ اس حوالے سے جیل جانے کو بھی تیار میں۔
سابق وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کو لندن سے ڈھاکہ جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز پر سوار ہونے کے لیے بورڈنگ پاس جاری نہیں کیا گیا تھا۔
شیخ حسینہ واجد اتوار کی سہ پہر لندن سے ڈھاکہ جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز بی اے 145 پر سوار ہونا چاہتی تھیں لیکن انہیں جہاز پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
بنگلہ دیش نے برٹش ایئر ویز کو خبردار کیا تھا کہ اگر حسینہ واجد ڈھاکہ آنےوالی پرواز پر سوار ہوں گی تو اس پرواز کو ڈھاکہ کے ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس سے قبل ڈھاکہ میں ایک عدالت نے حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ شیخ حسینہ واجد پر ایک حریف سیاسی جماعت کے چار کارکنوں کو گزشتہ اکتوبر میں ایک ریلی کے دوران قتل کرنے کی سازش کا الزام ہے۔چار سیاسی کارکنوں کی ہلاکتوں کے علاوہ حسینہ واجد پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
شیخ حسینہ اس سال جنوری میں نگراں حکومت کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ملک چھوڑ کر لندن آ گئی تھیں۔
شیخ حسینہ نے ہفتے کے روز بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں نگراں حکومت پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کی ’جنتا‘ ان کے ساتھ ہے اور انہیں ’دیش‘ واپس جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
بنگلہ دیش کی وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حسینہ واجد کو ملک میں داخل ہونے دیا گیا تو ان کی اشتعال انگیز تقریروں سے ملک میں بدامنی اور سیاسی انتشار پھیلنے کا خطرہ ہے۔