Saturday, 21 April, 2007, 14:53 GMT 19:53 PST
بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی جماعت عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد نگران حکومت کی طرف سے لگائی جانے والی تمام پابندیوں کے باوجود اتوار کو لندن سے روانہ ہو کر پیر کو ڈھاکہ پہنچ رہی ہیں۔
’میں ضرور جاؤں گی، میرا دیش ہے اور مجھے جنتا کی مکمل حمایت حاصل ہے‘۔ یہ بات شیخ حسینہ واجد نے ہفتہ کو بی بی سی اردو سروس کے لندن اسٹوڈیوز میں عمر آفریدی سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ یہ انٹرویو انہوں نے اردو زبان میں دیا۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان تینوں دیش علیحدہ ہیں ’لیکن ہمارے درمیان کوئی دراڑ نہیں ہونی چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ہمارا مسئلہ ایک ہے اور وہ ہے غربت۔ ’ہمیں چاہیے کہ ہم مل کر اس مسئلہ کو حل کریں اور جنتا کے لیے کام کریں اور ان کا دکھ اور ان کی مشکلات ختم کریں۔‘
شیخ حسینہ واجد نے اس انٹرویو کے دوران انیس سو اکہتر میں پاکستان سے علیحدگی اور بنگلہ دیش کی آزادی کے وقت کی یادوں کے بارے میں بھی بات کی۔
![]() | |
| شیخ حسینہ واجد اردو سروس کے عملے کے ساتھ |
انہوں نے کہا کہ ان دنوں کی یادیں بہت تلخ اور بہت تکلیف دہ ہیں۔ شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ اس وقت حسینہ شیخ تھیں اور بعد میں انہیں عوام نے شیخ حسینہ بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان دنوں ڈھاکہ یونیورسٹی کی طالب علم تھیں اور بنگلہ دیش کی تحریک سے وابستہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے وقت وہ پاکستانی فوج کی حراست میں تھیں۔ وہ حاملہ تھیں لیکن پھر بھی انہیں حراست میں سوائے ایک کمبل کے کچھ مہیا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے تمام رشتہ دار اور گھر والے حراست میں تھے۔ شیخ حسینہ نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمان کے بارے میں کہا کہ ’ہمیں ابا کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں یا انہیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سولہ دسمبر کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیے تھے لیکن انہیں سترہ دسمبر کو ’مکتی‘ یا رہائی ملی۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ جنوری انیس سو بہتر کو انہیں بی بی سی سے معلوم ہوا کہ ان کے والد خیریت سے ہیں اور پاکستان سے رہائی پا کر لندن پہنچ گئے ہیں۔
![]() | |
| شیخ حسینہ واجد کی انیس سو اکہتر بڑی تلخ یادیں ہیں |
بنگلہ دیش کی موجودہ صورت حال کا پاکستان سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں بھی بعض لوگ پاکستان کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے معاشرتی اور سیاسی حالات بالکل مختلف ہیں اور وہ انہیں باہر نہیں رکھ سکتے۔
شیخ حسینہ سے جب بنگلہ دیش عوامی لیگ کی تحریک کے نتیجے میں نگران حکومت کے قیام کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا موجوہ صورت حال کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی تو انہوں نے کہا کہ وہ عوام کو ووٹ دینے کا حق دلانا چاہتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک چلائی گئی تھی کہ انتخابات میں دھاندلی نہ ہو اور عوام کی رائے کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینے اور عوام کا بنیادی حق ہے اور ان کی رائے کی بجا طور پر حکومت سازی میں عکاسی ہونی چاہیے۔
’ہم جہوریت چاہتے ہیں ڈکٹیٹرشپ نہیں چاہتے۔‘ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں مستحکم اور مضبوط جمہوری روایت کے قیام کے لیے ابھی طویل سفر کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے آئین کے تحت صرف نوے دن کے لیے نگراں حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ موجودہ حکومت انہوں نے کہا کہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپنے دورے حکومت میں انہوں نے اس وقت کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور بھارت کے وزیر اعظم آئی کے گجرال کو ڈھاکہ مدعو کیا تھا۔ اس کے علاوہ جب دونوں ملکوں نے ایٹمی دھماکے کیے تھے تو انہوں نے نئی دہلی اور اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور دنوں ملکوں سے بات کی تھی ۔
انہوں نے کہا کہ دونوں نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ کشیدگی بڑھانے کے کام نہیں کیے گئے۔ ’میں نے کہا تھا کہ اگر آپ دونوں لڑیں گے تو ہمارا کیا بنے گا ہم کہاں جائیں گے۔‘