Thursday, 19 April, 2007, 06:33 GMT 11:33 PST
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ ملک واپس جانے سے باز رکھنے کی تمام تر کوششیں بھی ان کا راستہ نہیں روک سکتیں اور وہ وطن واپس ضرور جائیں گی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں وطن واپس جانے، انتخابات میں حصہ لینے اور اپنے خلاف لگائے گئے قتل کے الزامات کا دفاع کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ واضح رہے کہ شیخ حسینہ چھٹیوں پر ان دنوں امریکہ میں ہیں۔
بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ اس سے قبل کہہ چکے ہیں اشتعال انگیزی اور طیش پر مبنی ان کی تقاریر سے عوامی سطح پر بدامنی کا خدشہ ہے۔ حکام کو کہا گیا ہے کہ انہیں ہر ممکن طریقے سے ملک میں داخل ہونے سے روکا جائے۔
شیخ حسینہ نے بی بی سی کی بنگالی سروس کو بتایا کہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور انہوں نے عوام سے الیکشن میں حصہ لینےاور اپنے خلاف لگائے گئے قتل کے من گھڑت الزام کے دفاع کا وعدہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ 23 اپریل کو وطن واپسی کی غرض سے جمعرات کو لندن آئیں گی۔
حکومت کا کہنا ہے شیخ حسینہ کی ایما پر ہی گزشتہ دنوں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے جس کی وجہ سے ہنگامی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔
شیخ حسینہ کا اصرار تھا کہ ان کی یہ شدید خواہش ہے کہ وہ وطن جا کر اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا دفاع کریں جن کو ہفتے بھر قبل انہوں نے جھوٹے اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کاکہنا تھا کہ وہ گرفتاری اور جسمانی طور پر ایذا رسانی سے نہیں ڈرتیں۔
![]() | |
| اطلاعات ہیں کہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر رضامند ہو گئی ہیں |
وزیر داخلہ نے ایک بیان میں شیخ حسینہ پر یہ الزام لگایا کہ وہ فوج کی حمایت یافتہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی واپسی سے عوامی سطح پر مزید الجھن اور نفرت پر مبنی جذبات بھڑک سکتے ہیں۔
وزراتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ کی ملک واپسی کے بارے میں عوامی تحفظ کے لیے حکومت نے عارضی طور پر سپیشل سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔ پولیس، امیگریشن، فضائیہ اور بحری انتظامیہ کے حکام کو محتاط اور چوکس رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ فوج کی حمایت یافتہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے شیخ حسینہ پر قتل اور مالی بندعوانی کے الزامات لگائے ہیں۔
اس قسم کی بھی اطلاعات ہیں کہ ایک اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر رضامند ہو گئی ہیں۔