Wednesday, 18 April, 2007, 00:57 GMT 05:57 PST
اقوام متحدہ کے سربراہ نے عراق کے پڑوسی ممالک سے عراقی پناہ گزینوں پر دروازے بند نہ کرنے کی اپیل کی ہے اور انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک سے کہا ہے کہ وہ عراق میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امداد میں اضافہ کریں۔
اقوام متحدہ چاہتا ہے کہ شام اور اردن کی مدد کی جائے جہاں بیس لاکھ عراقی پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہ یورپی یونین اور امریکہ سے چاہتا ہے کہ وہ زیادہ عراقیوں کو پناہ دیں۔
اقوام متحدہ کے اندازہ کے مطابق ہر ماہ پچاس ہزار لوگ عراق چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اس وقت چالیس لاکھ کے قریب عراقی گھر چھوڑ چکے ہیں جن میں انیس لاکھ اپنے ملک میں ہی بے گھر ہیں۔
بان کی مون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کسی کی زبردستی عراق واپسی پر زور نہ دیں جو اس وقت تشدد کی زد میں ہے اور جہاں ہر روز درجنوں لوگ مارے جا رہے ہیں۔
پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کی طرف سے بلائے گئے اس اجلاس میں ساٹھ ممالک سے آئے ہوئے حکام شرکت کر رہے ہیں۔
پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر نے کہا کہ عالمی برادری نے عراقی پناہ گزینوں کے مسئلے پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے چالیس لاکھ عراقی ملک کے اندر اور باہر انتہائی مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے عراقی عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہے ہیں جن کے پاس پہلے ہی محدود وسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عراق میں پناہ گزینوں کا مسئلہ انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام سے فلسطینیوں کے بے گھر ہونے کے بعد انسانوں کا اپنے ملک سے سب سے بڑا انخلاء ہے۔
عالمی سطح پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ پر ان لوگوں کی مدد کرنے کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ان دونوں ممالک نے ایک ایسی جنگ شروع کی جس سے ہزاروں اموات واقع ہوئیں، خوف و بد حالی پھیلی اور لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔