http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 16 April, 2007, 10:50 GMT 15:50 PST

خالدہ کے دوسرے بیٹے بھی گرفتار

بنگلہ دیش میں سیکورٹی فورسز نے سبکدوش ہونے والی وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے دوسرے بیٹے کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ کے مطابق فوجی اہلکاروں نے عرفات رحمان کو ڈھاکہ میں خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر پیر کی رات کے آخری پہر میں حراست میں لیا۔

خالدہ ضیاء کے بڑے بیٹے طارق رحمان کو گزشتہ ماہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے بدعنوانی کے خاتمے کی ایک مہم کے تحت دو مرکزی سیاسی جماعتوں سے ہمدردی رکھنے والے ایک سو ساٹھ سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔

اپنے بڑے بھائی طارق رحمان کے برعکس عرفات رحمان سیاست میں نہیں تھے۔

ایک غیر سرکاری چینل ’ اے ٹی این‘ کے مطابق چھاپہ مشترکہ طور پر فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے مارا جس کے دوران اہلکار پورے گھر کی تلاشی میں مصروف رہے اور ان کے افسران عرفات رحمان کو حراست میں لینے سے قبل ’بہت دیر تک‘ خالدہ ضیاء اور ان سے بات چیت کرتے رہے۔

خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے ایک بنگلہ دیشی افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ عرفات رحمان کو اتوار آدھی رات کے بعد حراست میں لیا گیا۔
بڑے بیٹے طارق رحمان کو گزشتہ ماہ گرفتار کر لیا گیا تھا

خبر رساں ادارے کے مطابق سکیورٹی فورسز نے گزشتہ ماہ عرفات رحمان کی اشتہاری کپمنی ’ایڈسائن‘ کے دفتر کی بھی تلاشی لی تھی اور وہاں سے ان کے ایک ساتھی کو بدعنوانی کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا۔

فخرالدین احمد کی قیادت میں فوجی حکومت نے ملک میں بدعنوانی کے خلاف ایک بڑی مہم چلائی ہوئی ہے اور انتخابات ملتوی کر دیے ہیں۔ یہ انتخابات بائیس جنوری کو ہونا تھے۔ بدعنوانی کے خلاف مہم کی یہ تازہ ترین گرفتاری ہے۔

عبوری حکومت نے اپوزیشن عوامی لیگ کی طرف سے احتجاج کے بعد انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعت عوامی لیگ نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی پر انتخابات میں دھاندلی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔