http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 16 April, 2007, 08:40 GMT 13:40 PST

’حکومت سے علیحدگی کااعلان‘

عراق میں شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے اپنے وزراء کی وزیراعظم نورالمالکی کی مخلوط حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔

مقتدیٰ الصدر کی جانب سے یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ وہ امریکی فوج کے عراق سے انخلاء کے لیے ایک ٹائم ٹیبل کے اپنے مطالبے کو آگے بڑھا سکیں اور حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

37 اراکین پر مشتمل عراقی کابینہ میں مقتدیٰ الصدر کی تنظیم کے چھ وزراء شامل ہیں جبکہ ان کے حامی اراکینِ پارلیمان کی تعداد تیس سے زائد ہے۔

مقتدیٰ الصدر اس سے قبل بھی وزیر اعظم نوری المالکی اور بُش انتظامیہ کے درمیان قریبی تعلقات کے خلاف بطور احتجاج عارضی طور پر حکومت سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

شمالی عراق میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فوج کی ایک چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد کے ایک حملے میں کم از کم تیرہ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں چار فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ موصل کے قریب کیا گیا۔
کربلا میں کار بم دھماکہ
ایک روز قبل ہونے والے حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے

بصرہ میں عوامی احتجاج کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین صوبائی گورنر محمد الولی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے گورنر پر کرپشن کا الزام لگایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پانی اور بجلی سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہو گئے ہیں۔ مقامی اطلاعات کے مطابق تین ہزار افراد نے بصرہ کی سڑکوں پر مارچ کیا تاہم برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ شہر میں ہونے والے اس مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک تھے۔

دریں اثنا پولیس کے مطابق بغداد میں گزشتہ روز دن بھر تشدد کے مختلف واقعات میں ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک اور کم سے کم ایک سو افراد زخمی ہوگئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بغداد کے لیے سکیورٹی کا نیا منصوبہ جسے تین ماہ پہلے بہت زورو شور سے متعارف کروایا گیا تھا کچھ ابتدائی کامیابیوں کے بعد تشدد روکنے میں ناکام رہا ہے۔

دریں اثناء برطانوی فوج کے دو ہیلی کاپٹر فضا میں ٹکرانےسے اس کے عملے کے دو افراد ہلاک ہو گئے۔

ان حملوں سے ایک روز قبل شیعہ برادری کے مقدس شہر کربلا کے ایک پر ہجوم بازار میں ایک خود کش بم دھماکہ ہوا تھا بتایا جاتا ہے کہ اس حملے درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بغداد میں حالیہ ہفتوں میں کار اور خود کش بم دھماکے معمول بن گئے ہیں۔