Saturday, 14 April, 2007, 07:42 GMT 12:42 PST
روسی صدر ولادمیر پوتن کے مخالفین کی ایک ریلی سے قبل ماسکو میں اپوزیشن رہنما اور شطرنج کے سابق عالمی چیمپیئن گیری کسپاروف کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
صدر پوتن کے مخالفین سنیچر کے روز دارالحکومت ماسکو کی سڑکوں پر ’جمہوری آزادیوں پر پابندیوں‘ کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں۔ اپوزیشن تحریکوں کے اتحاد ’دوسرا روس‘ نے سنیچر کے احتجاج کو ’اختلاف کا دن‘ قرار دیا ہے۔
گیری کسپاروف یونائٹیڈ سِول فرنٹ نامی تنظیم کے رہنما جو کہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد ’دوسرا روس‘ کی ذیلی تنظیم ہے۔ ان کی تنظیم نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرح صدر پوتن پر الزام لگایا ہے کہ وہ روس میں جمہوری آزادیوں پر پابندی لگارہے ہیں۔
گیری کسپاروفف جمہوریت حامی مظاہرین کی رہنمائی کرنے والے تھے۔ اس ریلی سے قبل ہی دارالحکومت ماسکو میں انہیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس مظاہرے سے نمٹنے کے لیے ماسکو کی سڑکوں پر پولیس کے لگ بھگ نو ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
’دوسرا روس‘ اتحاد کے اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں وارننگ دی گئی تھی کہ وہ سنیچر کے مظاہرے میں شرکت نہ کریں۔ اس اتحاد کی رہنمائی گیری کسپاروف کے علاوہ سابق روسی وزیراعظم میخائل کسیانوف کررہے ہیں۔
صدر ولادمیر پوتن کے مخالفین کی یہ ریلی ایسے وقت منعقد کی جارہی ہے جب روسی حکومت نے برطانیہ سے جلاوطن بزنسمین بورس بیریزوسکی کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
بورس بیریزوسکی کو برطانیہ میں قانونی ’سیاسی پناہ‘ حاصل ہے اور انہوں نے حال ہی میں صدر ولادمیر پوتن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کال دی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ صدر پوتن نے آمرانہ حکومت قائم کررکھی ہے جس کا طاقت سے خاتمہ ہوسکتا ہے۔ لیکن بعد میں بیریزوسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے ’بنا خون خرابے کی تبدیلی‘ کی بات کی ہے۔
برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ بیریزوسکی کے بیان پر غور کررہی ہے اور کسی بھی حکومت کے ’پرتشدد خاتمے‘ کے خلاف ہے۔