Tuesday, 10 April, 2007, 04:15 GMT 09:15 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی گوانتاناموبے، کیوبا
امریکی فوج کی کوشش ہے کہ عالمی طور پر بدنامِ زمانہ اس جیل کو ایک زبردست حراستی مرکز کے طور پر پیش کرے۔ میرے دورے کے دوران انہوں نے مجھے اس بات پر قائل کرنے کی پوری کوشش ہے کہ وہ وہاں اپنے ’خطرناک دشمنوں‘ کی کتنی خدمت کررہے ہیں۔
’ہمارے سارے قیدی مسلمان ہیں، اس لیے ہم ان کے لیے امریکہ سے خاص طور پر حلال گوشت منگواتے ہیں‘۔ باروچی خانے کی انچارج سام سکاٹ نے فخریہ لہجے میں بتایا۔
ہمیں بتایا گیا کہ قیدی چائے، پیپسی اور جوس پیتے ہیں۔ کھانے میں روسٹ مرغی سے لے کر پاستا اور دال سبزی تک انہیں سب کچھ دیا جاتا ہے اور مینو ہردو ہفتوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
’پھلوں میں وہ بالکل تازہ پھل مانگتے ہیں۔ اگر ان پر تھوڑا سا بھی داغ دھبہ ہو تو قیدی شکایت کرتے ہیں، پھل واپس کر دیتے ہیں‘۔ سام اسکاٹ نے ایسے انداز میں کہا کہ لگا جیسی وہ خود بھی شکایت کر رہی ہو کہ ان قیدیوں کے بڑے نخرے ہیں۔
اور میٹھے میں؟ میں نے پوچھا۔
![]() | |
| باروچی خانے کی انچارج سام سکاٹ کھانے کا مینو دکھا رہی ہیں |
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی امریکی فوج پاکستان، افغانستان اور باقی مسلم دنیا سے پکڑ کر لائے گئے ان قیدیوں کی یہاں اتنی خاطر تواضع کرنے میں مصروف ہے تو آج بھی کم از کم تیرہ قیدی یہاں بھوک ہڑتال پر کیوں ہیں؟ کیوں گوانتانامو میں پانچ سال بعد، آج بھی امریکی فوج بھوک ہڑتالیوں کے زبردستی ہاتھ پاؤں جکڑ کر انہیں حلق میں ٹیوب کےذریعے خوارک دینے پر مجبور ہے؟
جب میں نے یہ سوال گوانتانامو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر رئر ایڈمرل ہیری ہیرس کے سامنے رکھا تو ان کا جواب تھا: ’ہمیں اس کی زیادہ فکر نہیں کہ قیدی بھوک ہڑتال کیوں کرتے ہیں۔ یہ لوگ امریکہ کے دشمن ہونے کے شبہے میں یہاں لائے گئے ہیں اور جب تک دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ جاری ہے، ہمیں انہیں یہاں رکھنے کا حق ہے‘۔
امریکی نقطۂ نظر میں یہی وہ بنیادی گڑ بڑ ہے جسے اقوامِ متحدہ اور خود امریکہ کے یورپی اتحادی انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
(شا ہ زیب جیلانی کا گوانتانامو کا یہ دورہ امریکی فوج کی کڑی نگرانی کے تحت عمل میں آیا۔ گوانتانامو کے حراستی مرکز کے اندر انہوں نے جو کچھ دیکھا اور سنُا وہ سلسلہ وار کالموں ’گوانتانامو ڈائری‘ میں جاری ہے)